تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 162 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 162

106 لعلماتِ رَبِّي لَنَفِدَ البَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوجْتُنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا کہہ دے کہ اگر سمندر کو سیاہی بنا کر اس سے خدا تعالے کی معرفت کی باتیں، اس کے دیئے ہوئے علوم اور قدرت کے راز ضبط تحریر میں لانا چاہو تو وہ ایک سمندر کیا اس جیسا ایک اور سمندر بھی لے آؤ تو وہ بھی ختم ہو جائے گا مگر خدا کی باتیں اور اس کے دیئے ہوئے علوم نختم نہ ہوں گے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضور کی اتباع میں ہر مسلمان کی زبان سے یہ کہلوایا کہ رب زدني علمًا۔اے اللہ مجھے اپنی معرفت اور علم میں بڑھانا پھلا جا۔پس علم کبھی نہ ختم ہونے والی چیز ہے۔اس لئے آپ تادم حیات علم کی جستجو میں رہیں اور اس کے حصول کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں۔اللہ تعالے ہمیشہ آپ کے ساتھ ہو لئے ماه امان / مارچ پیش کی سالانہ تقریب کے موقعہ پر کامیاب طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔حقیقی علم کا ابدی سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔سنی سنائی باتوں یا درسی کتب سے آپ نے جو کچھ بھی حا صل کیا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے گھڑے یا مشکیزے کا پانی جو اپنے عرشیہ سے دور ہو جانے کی وجہ سے مرور زمانہ کے ساتھ متعفن، بدبودار اور مضر صحت ہو جاتا ہے۔اگر آپ علم سے محبت رکھتے ہوں تو ضروری ہے کہ آپ کا تعلق علم کے حقیقی سرچشمہ سے ہمیشہ مضبوط رہے۔پس اپنی عقل اور علم پر تکیہ نہ کرو بلکہ ہمیشہ علام تحقیقی کے آستانہ پر عاجزی اور انکساری کے ساتھ مجھکے رہوتا اس تعلق کے طفیل تمہارے دلوں سے بھی ہمیشہ مصفی ، میٹھے اور لذیذ علم کے چشمے پھوٹتے رہیں۔اگر تمہارا یہ تعلق اپنے رب سے جو خالق محل اور حالم گل ہے پختہ اور مضبوط رہا تو علم و حکمت کا ایسا خزانہ تمہیں ملے گا جو دنیا کی تمام دولتوں سے اشرف ہے۔دنیا کی دولت قانی ہے لیکن علم و حکمت کا جو خزانہ تمہیں بھی گا اس پر فنا نہیں آئے گی۔پس دُعا اور عاجزی کے ساتھ اپنے محسن، اپنے ریت سے بصیرت اور معرفت طلب کرتے رہو۔یہ بھی نہ بھولنا کہ انسان علم اس لئے حاصل کرتا ہے کہ خود اس سے فائدہ اُٹھائے اور دوسرو کی خدمت کرے تحقیقی علم کے حصول کے بعد انسان ہزارہ برائیوں سے بچتا اور بے شمار نیکیوں کی توفیق پاتا ہے۔اور بڑا ہی بد بخت ہے وہ جسے معرفت تو عطا ہوئی ، جس نے علم تو حاصل کیا مگر ل رسالة "المنار" بابت وقا ظہور تبوک / بولائی اگست ستمبر مش مسلم ۳۷- ۳۸ + /