تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 144
۱۴۰ نہیں برتتے اور نہ ہی طلباء سٹرائیک کی قسم کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ذرائع استعمال کرتے ہیں۔یہاں نہ صرف ملک کے گوشے گوشے بلکہ غیر مالک سے بھی ہر مذہب و خیال کے طلباء اس پرسکون ، سادہ اور پاک ماحول سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں " سے تعلیم الاسلام کالج ایک بین الاقوامی حیثیت کا حامل ہے۔کالج کے طلبہ کا حلقہ انڈونیشا، برما ، تبت ، ہندوستان ، مغربی افریقہ ، مشرقی افریقہ ، سومالی لینڈ اور بحرین وغیرہ ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ہمارے طلبہ میں سچائی ، محنت ، خدمت خلق ، غیرت قومی ، خدمت دین ، امانت دیانت اور دیگر اخلاق فاضلہ صرف موجود ہی نہیں بلکہ ان کا معیار بھی کافی بلند ہے۔ہمیں یقین ہے کہ جس معیار کی تعلیم دینے اور جس طرح کے طلبہ پیدا کرنے کی کوشش اس کالج میں ہو رہی ہے اس کے پیش نظر نہ صرف اس کالج کی بلکہ اس جیسے سینکڑوں کالجوں کی ملک و قوم کو ہر وقت ضرورت رہے گی اور ہمارے طلبہ انشاء اللہ تعالٰی آنے والے سالوں میں تعلیمی، علمی اور اخلاقی میدان میں مثالی اور قابل فخر کر دار ادا کریں گئے نے اللہ تعالے ہماری نیتوں اور کوششوں میں برکت ڈالے اور ہمیں خدمت قوم د بنی نوع انسان کی زیادہ سے زیادہ توفیق دے" سے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالے کی طلبہ کالج سے متعلق یہ پیشگوئی خدا کے فضل و کرم سے حرف بحرف پوری ہو رہی ہے۔فالحمد للہ علی ذالک یہ نظام تعلیم و تربیت جس کا خاکہ اوپر کھینچاگیا ہے تعلیم وتربیت سے تعلق لبعض اہم واقعات اپنی تفصیلات کے اعتبار سے ایک مستقل مضمون کا تقاضا کرتا ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔تاہم ذیل میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے اس دور زندگی کے بعض اہم واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے آپ کے انداز تربیت کے بہت سے گوشے نمایاں ہوتے ہیں اور جو دنیا ئے اصلاح و تربیت کے لئے چراغ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔سے "المنار" وفا۔ظہور تبوک / جولائی اگست ستمبر یه میش صفحه ۱۸ : لے "المنار" ہجرت، احسان امئی جون س ش صفحه ۲۷ + سے "المنار" وفا۔ظہور تبوک جولائی اگست ستمبر له مش صفحه ۳۴۳ ۱۹ ۰ +1975