تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 143 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 143

۱۳۹ سبقت لے جائیں۔اے خدا ! تو خود اس نو شگفتہ نسل کے دل و دماغ کو رموز قیادت و تقات سے آشنا کر۔اور ان کے عمل اور مساعی میں تیزی اور جولانی پیدا کر اور انہیں دنیا کا ہمدرد بنا دنیا کا خادم بنا ، دنیا کا محسن بنا ، اور دنیا کا رہبر بنا ، قوم کا نام ان کے کام سے چمکے۔انسانیت کا چہرہ اُن کی رُوحانیت سے منورہ ہو اور تیری صفات ان کے کمالات سے ظاہر ہوں" کالج کے نظام تعلیم و تربیت کی بنیادی خصوصیات کی نظام تعلیم و تربیت کا ایک جامع نقشہ نشاندہی کرنے کے بعد مناسب ہوگا کہ ہم حضرت ما ابزار ام مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کے مبارک الفاظ میں اس درسگاہ کے تعلیمی و تربیتی اعتبار سے پاکیزہ ماحول کا ایک نقشہ قارئین کے سامنے رکھ دیں۔اس نقشہ سے نہایت جامعیت کے ساتھ پانچوں خصوصیات کی جھلک پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے۔ہر مہیش میں فرمایا :- "ہمارے طلبہ اور ہمارے اساتذہ تعلیم و تربیت کو ایک مقدس فرض تصور کرتے ہیں۔ہمارے پاس بڑے بھلے ہر قسم کے طلبہ آتے ہیں۔ایک باپ کی حیثیت سے سرائیں بھی دینی پڑتی ہیں اور ایک باپ ہی کی محبت کا سلوک کرنا پڑتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان عزیزوں کے لئے صحت افزا ذ ہنی ، اخلاقی اور جسمانی فضا مہیا کرنا، ان کی شخصیتوں کے جملہ پہلوؤں کو احباگر کرنا اور علمی اور اخلاقی نشود نما کی جملہ سہولیتیں بہم پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ہمارے نزدیک مسجد کے بعد مدرسے کا تقدس ہے اور ہماری اس درسگاہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعلیم و تربیت کے فرائض عبادت کے رنگ میں سر انجام دیئے بھاتے ہیں جہاں رنگ اور مذہب ، افلاس اور امارت ، اپنے اور بیگانے کی کوئی تفریق نہیں۔جہاں طلباء مقدسن قومی امانت ہیں۔جہاں ماحول خالص اسلامی اور اخلاقی ہے نہ کہ سیاسی۔جہاں منتہائے مقصود خدمت ہے نہ کہ جلب منفعت جہاں غریبی عیب نہیں اور امارت خوبی نہیں۔الحمد للہ علی ذلک۔ایسے عظیم اور مثالی ادارے کی کما حقہ حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے جس کے ذرے ذرے پر اس کے فدائی اساتذہ اور طلباء نے خونِ دل سے محنت اور اخلاص کی داستانیں لکھی ہیں۔یہاں اساتذہ سستی شہرت کی خاطر اپنے فرائض کے تلخ پہلوؤں سے اغماض سالانہ رویداد تعلیم الاسلام کا لی اہش صفحہ 14 * +