تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 136
۱۳۲ محبوب عالم صاحب مخالد ایم۔اے صدر شعبہ اردو اور پروفیسر ناصر احمد صاحب پروازی معتمد مجلس استقبالیہ اردو کا نفرنس اور ان کے دوسرے رفقاء کی انتھک جدو جہد کا نتیجہ تھی، مارماه اخارا اکتوبر بش کو تعلیم الاسلام کالج کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی جس میں ۲۵ کے قریب نامور ادباء اور شعراء نے شرکت کی علاوہ ازیں مختلف کالجوں کی طرف سے بھی پیش کے قریب مندوبین شامل ہونے کا نفرنس کی کارروائی تلاوت سے شروع ہوئی۔بعد ازاں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس استقبالیہ نے اپنے پراثر خطبہ میں ارشاد فرمایا : اس کا نفرنس کے مقاصد مخالصہ تعمیری اور مثبت ہیں۔ہم اردو کا مینار تخریب کی منفی اقدار پر استوار نہیں کرنا چاہتے۔ہمارے نزدیک سلبی انداز فکر ذہنی افلاس کی علامت ہے۔زندہ قوموں کی ہزار پہلو ضروریات اپنے اپنے مقام اور محل پر سب کی سب اہم اور ناقابل تردید حیثیت کی حامل ہوا کرتی ہیں۔لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ ان جملہ قومی تقاضوں کو ضروری خیال کرتے ہوئے بھی میزان عدل کا توازن بر قمر لکھا جا سکتا ہے اور اردو کو وہ ارفع مقام دیا بھا سکتا ہے جو اس کا واجبی حق ہے۔یہ ایک عظیم قومی حادثہ ہے کہ زبان کا مسئلہ جو خالصتہ قومی اور علمی سطح پر حل کیا جانا چاہیے تھا، سیاسی نعرہ بازی اور سہل جذبات کا شکار ہو کر رہ گیا اور سترہ سال کا طویل عرصہ بے کار مباحث اور مجرمانہ غفلت کے ہاتھوں مائع ہو گیا۔ہم تو سُنتے آئے تھے کہ ہمارے معروف ساغر “ کا ایک دور صد سالہ دور چرخ کے ہم پلہ ہوا کرتا ہے اور بند جب میکدہ سے نکلتے ہیں تو دنیا بدلی ہوئی پاتے ہیں۔لیکن یہاں سترہ سال کے بعد بھی میں ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سہل انگاری اور خوش فہمی کے گنبد سے نکل کر ہم حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں۔ٹھنڈے دل سے اپنی مشکلات کا جائزہ لیں اور سنجیدگی سے اپنے تعلیمی، تدریسی، علمی ، ادبی ، لسانی اور طباعتی مسائل کا حل تلاش کریں۔زبان و بیان تلخیص و ترجمہ ، رسم الخط اور اسی قسم کے دیگر عقدوں کی گرہ کشائی کی کوشش کریں۔ایسا لائحہ عمل بنائیں اور اس کی تشکیل ایسے ماہ کا نفرنس میں آپ کی طرف سے یہ خطبہ استقبالیہ پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد ایم۔اے صدر شعبہ اردو نے پڑھا؟