تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 135 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 135

۱۳۱ اور خوب داد وی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے سنٹرل پیچپور باسکٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے انعامات تقسیم فرمائے۔چھٹا سالانہ ٹورنا منٹ اپنی گذشتہ روایات کے مطابق کامیابی کے ساتھ انعقاد پذیر ہوا۔اور انعاما کی تقسیم پر و فیسر خواجہ غلام صادق صاحب چیئر مین سنٹرل امیچیور باسکٹ بال ایسوسی ایشن نے کی۔ساتواں ٹورنامنٹ جو کالج میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی سربراہی کے مبارک، زمانہ کا آخری ٹورنا منٹ تھا ، ۲۵ - ۲۶ - تبلیغ فروری میش کو منعقد ہوا۔گل ٹیموں نے شرکت کی اور حضرت صاحبزادہ صاحب نے بحیثیت پرنسپل و صدر سنٹرل الیسوسی ایشن لوائے پاکستان اور کالج کا جھنڈا لہرایا۔اس موقعہ پر جن اصحاب نے پیغامات ارسال کئے ان میں ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان، تو یہ عبد الحمید صاحب ڈائریکٹر تعلیمات راولپنڈی ریجین، ونگ کمانڈر اینچے۔اسے صوفی سکرٹری سپورٹس کنندوں بورڈ گورنمنٹ آف مغربی پاکستان ، پروفیسر تواجه محمد اسلم پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور اور سید پناہ علی شاہ انسپکٹر آف سکولز لاہور ڈویمن ، منال محمد عادل فال ڈائریکٹر آف سپورٹس پشاور یونیورسٹی بالخصوص قابل ذکر تھے۔اس ٹورنا منٹ کی تصاویر رمع پیغام و تصویر ملک امیر محمد نعال گورنر مغربی پاکستان دو دفعہ ٹیلی ویژن پر دکھائی گئیں۔اسی طرح لاہور ریڈیو پر مقامی اور قومی خبروں میں بھی اس کا اعلان نشر کیا گیا۔م نبوت اومیش کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب منصب خلافت پر فائز ہوئے اور خلافت ثالثہ کے مبارک عہد کا آغاز ہوا تو حضرت امیرالمومنین خليفة السيح الثالث ایده الله تعالى بمصر العربية نے از راہ کرم اپنے اسم گرامی سے ٹورنامنٹ کو منسوب کئے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی چنانچہ آئندہ سے یہ مقابلے پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے ناصر باسکٹ بال ٹورنامنٹ کے نام سے ہونے لگے ہے سے کل پاکستان اردو کا نفرنس کا انعقاد باسکٹ بال ٹورنامنٹ سے گولیوں کی دنیا میں کالا کاشہرو عام ہوا تو اوربے اردو کے حلقوں میں تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی شکل پاکستان اردو کا نفر نس نے دھوم مچا دی۔ربوہ میں اپنی نوعیت کی پہلی کامیاب کانفرنس ہو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خداداد ذہانت ، بلند پایہ نفیس ادبی ذوق اور بہترین علمی قیادت و سیادت کی آئینہ دار اور پر دفیس تھے تعلیم الاسلام کا لی کی سالانہ رپورٹوں سے ملخصاً