تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 137
خطوط پر کریں میں سے یہ گو مگو کی کیفیت ختم ہو اور اس ذہنی دھند سے نجات ملے۔اس جگہ اس امر کا اظہار بھی غیر مناسب نہ ہوگا کہ اُردو کے ساتھ جماعت احمدیہ کا ایک پائیدار اور روحانی رشتہ بھی ہے۔حضرت باقی سلسلہ احمدیہ علیہ اسلام کی اکثر تصانیف اُردو ہی میں ہیں۔اس لئے اردو زبان عربی کے بعد ہماری محبوب ترین زبان ہے۔اسی لئے ساری دنیا میں جہاں جہاں احمد ید شن یا احمدی مسلمان موجود ہیں وہاں اردو سیکھی اور سکھلائی بھارہی ہے۔زبان اردو کی یہ ٹھوس اور خاموش خدمت ہے جو جماعت احمد یہ دنیا کے گوشے گوشے میں کر رہی ہے۔اردو ہماری مذاہبی زبان ہے۔یہ ہماری قومی زبان ہے۔یہ ہماری آئندہ نسلوں کی زبان ہے۔یہ وہ قیمتی متاع ہے جو ہمیں ہمارے اسلاف سے ورثہ میں ملی ہے۔اسے اس قابل تائیے کہ ہماری آئندہ نسلیں اس حادثہ کو سرمایہ افتخار تصور کریں اور اس پر بجاطور پر ناز کر سکیں اور ہماری طرح گونگی اور بے زبان ہو کہ نہ رہ جائیں۔اردو ایک زندہ قوم کی زندہ زبان ہے۔ادبیات کی اہمیت مسلم لیکن یہ نہ بھولئے کہ اردو زبان کا یہ بھی حق ہے کہ شعرو ادب کے روایتی اور محدود دائرے سے باہر نکلے اور زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہو جائے۔ساری دنیا کے دلوں پر اس کی حکومت ہو۔تو میں اسے لکھیں، بولیں اور اس یمہ تھر گریں اور بین الاقوامی زبانوں کی محفل میں اردو بھی عزت کے بلند پایہ مقام پر سرفراز ہو۔ان دعائیہ الفاظ کے ساتھ میں ایک بار پھر اپنے دوستوں اور بزرگوں کو اھلا و سھلا مرحبا کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہوں کہ وہ ہم سب کو ایسا اندازہ فکر عطا فرمائے، اور اس پر کام کرنے کی توفیق دے جو نہ صرف زبان اردو کے لئے بلکہ ہمارے لئے اور بہار کی آنے والی نسلوں کے لئے خیر و برکت کا باعث ہو۔اللہم آمین لے خطبہ استقبالیہ کے بعد معتمد مجلس استقبالیہ اردو کا نفرنس نے اختر حسین صاحب صدر انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی اور اشتیاق حسین صاحب قریشی رئیس الجامعہ جامعہ کراچی کے پیغامات سُنائے جو انہوں نے خاص اس موقع کے لئے بھیجے تھے۔ان پیغامات کے علاوہ سیدنا المصلح الموعود کے اس پیغام کے اقتباسات بھی سنائے جو حضور نے ۳۳۶ پر مہیش میں دانش گاہ پنجاب میں منعقد ہونے والی کا نفرنس کے " ذکر اردو " صدا قاد تاثیر تعلیم الاسلام کالج