تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 88 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 88

AA کی خاص توجہ کا عمل دخل تھا۔چنانچہ انہی ایام میں اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل تحریک شائع فرمائی : تمام احباب جماعت کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ موجودہ شورش سے اس طرح نہ گھبرائیں کہ لڑکے تعلیمی روم ہو جائی جائے۔واعلم انے ارادہ کے تانے بچوں کایہ سے اور اس میں مال کر دیں یا یہ ہی کی بی بی ایس سی میں داخل کروائیں۔اور چاہیے کہ ہر احمدی تعلیم الاسلام کا رنج میں اپنے لڑکے کو داخل کروائے اور اس یادہ میں لڑکے کی مخالفت کی پروانہ کر سے تا کہ دینیات کی تعلیم ساتھ کے ساتھ ملتی جائے۔اکسار مرزا محمود احمد خلیفه اسمه تعلیم الاسلام کا یہ جاری کیے نے سے پہلے سائنس کا ستر کا مال حل کرنا ضروری تھا چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ۲۷ اتحاد / اکتوبر سے مہیش کو ارشاد فرمایا کہ کہ الیت بسی کا لج والوں سے نور ابل کر پریکٹیکل میں اشتراک عمل کا فیصلہ کیا جائے اور پھر وائس چانسلر سے عارضی طور پہ لا ہور میں کو ٹھیال کرایہ پر لے کو کالج کھولنے کی اجازت کی بجائے نے ایف سی کالج (فارمین کرسچین کالج میں لیبارٹریز موجود تھیں مگر ہندوستان بھارت بھا چکا تھا۔اس بناء پر یہ معاہدہ طے پایا کہ تعلیم الاسلام کالج کے پروفیسر ایف سی کالج میں پڑھائیں گے اور دونو کالجوں کے طلبہ ان کے لیکچر اور سائنس لیپار ٹریوں سے استفادہ کریں گے سائنس کی تلی تعلیم کا بندوبست ہونے کا تو آرٹس کا ستر کے اجراء اور طلبہ کالج کی رہائش کے لئے ایف سی سے کالج کے عقب میں ڈاکٹر کھیم سنگھ گریوں کی کوئی حاصل کرلی گئی جہاں در نبوت انو مر یہ ہی سے تو موت کا میں شروع کر دی گئیں بیاہ نبوت / نومبر کو حضرت مرزا شریعت احمد صاحب صدر کا لج کیٹی نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو اطلاع دی کہ تعلیم الاسلام کا لج کا شافت اور طلبہ لاہور پہنچ پکے ہیں اور سائنس کی کلاسز کے لئے ماضی طور پہ فارموں کو چین کا لی لاہور سے معاہدہ کر لیا گیا ہے لہذا کا لج کھولنے کی منظوری دی جائے۔وائس چانسلر نے اس کے اجداد کی منظوری دے دی۔چند دن بعد ( ۱۶ راہ نبوت کی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بھی قادیان سے لاہور تشریف لے آئے له الفضل لاہور ۱۵۰ نوت / نومبر ۱۳۳۷ ش صفحه ۲- کالم ۲۳ کے سر کو حضرت نواب محمد عبداللہ خان ناظر اعلی بنام سکرٹری صاحبہ کا رنج کمیٹی مور ته ۲۷ امضاء را گفته یه مش ؟ ر تاریخ چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے کے ایک خط سے متعین ہوتی ہے جو آپ نے دو نوبت ۱۳۲۶ راستے تعین ہوتی ہے جو آپ نے ہر نبیوت ۱۳۲۲ مہیش کو حضرت پرنسپل حیات تعلیم المصر مکاری قادیان کے نام لکھا تھا اور اب تک ریکارڈ میں شامل ہے ؟ الفضل نبوت اومبر مینی صفحه ۴ کالم ۶۳