تاریخ احمدیت (جلد 9)

by Other Authors

Page 89 of 794

تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 89

A9 اور کالج کا انتظام دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔کالج کے لئے موزون عمارت تلاش کرنے کی جو مہم جاری تھی اس کا نتیجہ سر فتح او سمیر تار میش کو صرف یہ برآمد *$1902- ہوا کہ محکمہ بحالیات نے ۳۷ کیستال پارک لاہور کی ایک نہایت بوسیدہ عمارت (جو ڈیری فارم یا اصطبل کے طور پر استعمال ہوتی رہی تھی ، عطا کی اور اسی روز اس کا قبضہ لے لیا گیا ہے جگہ نہایت تنگ اور مختصر تھی صنفوں پر کلاسیں ہوتی تھیں۔طلبہ کی تعداد ساٹھ کے قریب تھی۔ان لٹے پٹے طلبہ نے علم کے حصول کی خاطر ہر قسم کی سختیاں نہیں اور مشکلات خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔وہ دن کے وقت بین صنفوں پر بیٹھ کر اساتذہ کے لیکچر سنتے رات کو انہی صفوں پر سو رہتے۔نمازیں بھی اسی جگہ ادا کی جاتیں اور کھانا بھی نہیں کھایا جاتا۔ان دنوں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اسے اتفاقاً اس کال کو دیکھنے تشریف لے گئے اور بے حد متاثر ہوئے احد اپنے قلم سے مندرجہ ذیل تا ثرات الفضل میں شائع کرائے ہو اس ماحول کی صحیح عکاسی کرتے ہیں۔آپ نے تحریر فرمایا۔آج مجھے اتفاقاً اپنے تعلیم الاسلام کا لج آف قادیان حال لاہور کو چند منٹ کے لئے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ہمارا ڈگری کالج جو موجودہ فسادات سے قبل قادیان کی ایک وسیع اور عالیشان عمارت میں اپنے بھاری سازوسامان کے ساتھ قائم تھا وہ اب لاہور شہر سے کچھ فاصلے پر نہر کے کنارے ایک نہایت ہی چھوٹی اور تنفیر سی عمارت میں مل رہا ہے۔اس عمارت کا نچلا حصہ قریباً قریباً ایک اصطبل کا سارنگ رکھتا ہے اور اوپر کی منزل چند چھوٹے چھوٹے کمروں پر جو نہایت سادہ طور پر بنے ہوئے ہیں مشتمل ہے عمارت کی قلت اور کمروں کی کمی کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ ایک ہی عمارت سے کالج اور بورڈنگ کا کام لیا جا رہا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس عمارت کا صرف ایک کمرہ کالج کے استعمال میں ہے اور باقی کمروں میں بور ڈر رہائش رکھتے ہیں جن میں سے بعض چار پائیاں نہ ہونے کی وجہ سے فرش پر سوتے ہیں اور بڑی تنگی کے ساتھ گزارہ کر رہے ہیں۔لیکن بایں ہمہ میں نے سب بور ڈروں) کو ہشاش بشاش پایا جو اپنے موجودہ طریق زندگی پہ ہر طرح تسلی یافتہ اور قانع تھے۔اور کالج میں پڑھتے ہوئے لاہور جیسے شہر میں جھونپڑوں کی زندگی میں منوش نظر آتے تھے۔یہ اس اچھی روح کا ورثہ ہے بنو خدا کے فضل سے احمدیت نے اپنی جماعت میں پیدا کی ہے اور میں اس روح پر کالج کے طلباء اور کالج کے سٹاف کو قابل مبارک باد سمجھتا ہوں۔مله انسان دری پہیلی ٹیش کمتر کے دستخط سے الاٹمنٹ کی منظوری کا کاغذ " فائل بھائی کا ملح وہ ہے " سے منسلک ہے ؟