تاریخ احمدیت (جلد 9) — Page 87
میں آریہ سکول کی عمارت نہایت اعلی تھی مگر ڈیٹی کمشنر صاحب لائلپور نے کہا کہ اسے فی الحال حکومت پاکستان کے مریکہ کے تحت دیتا ہو کر کیا گیا ہے۔اس لئے کوئی کامیابی نہ ہوسکی۔اتحاد اکتوبر کو حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ سانگلہ ہل میں جا کر قورا تخالصہ ہائی سکول پر قبضہ لیا ہے اور قبضہ لیتے وقت ڈائر یکٹر صاحب سے یہ طے کر لیا جائے کہ ہم فوری طور پر کالچ کا اجراء وہاں نہیں کر سکتے جنوری یا اپریل میں کر سکیں گے کیونکہ ابھی تک ہمارے پاس سائنس کا سامان نہیں۔ہنڈا اس اثناء میں کیسی اور کو سکول کا قبضہ نہ دیا جائے حضور کے فرمان کی تعمیل میں عارضی طور پر یہ سکول جماعتی تحویل میں لے لیا گیا۔نگر سکول کی عمارت متحت ناقص تھی اور صحن بھی بہت چھوٹا تھا۔لہذا اسے ترک کر دینا پڑا۔ڈیرہ غازیخاں اور ملتان کے بعض دوستوں سے رابطہ قائم کر کے معلومات حاصل کی گئیں کہ کیا وہاں نیشنل کالی ہیں اور سائنس کا سامان بھی موجود ہے وغیرہ وغیرہ۔مگر اس بارہ میں اس تگ و دو کا اصل محور لا ہور ہی رہا جہاں ماہ اتحاد / اکتوبر کے آخری ہفتہ میں ڈی۔اے۔دی کالج کے متعلق درخواست دے دی گئی اور ساتھ ہی لکھ دیا گیا کہ جب تک یہ کالج پناہ گزینوں سے تعالی نہیں ہوتا اتنی دیر ہم دوسری جگہ کالج جاری کرلیں گے چوہدری محمد علی صاحب کے بیان کے مطابق سکو نیشنل کالج پر بھی قبضہ لیا گیا لیکن یہ قبضہ بھی بوجود ختم ہو گیا بست نگر میں مخالصہ ہوسٹل اور جنج گھر بطور ہوسٹل حاصل کئے گئے مگر چھوڑ دیئے گئے۔کالج کے لئے عارضی عمارت کی تلاش ابھی ابتدائی مرحلہ میں تھی کہ کالج کا دفتر بود عامل بلڈنگ کے مات مغربی جانب سیمینٹ والی عمارت میں کھول دیا گیا جہاں ایک بورڈ لکھوا کر رکھ دیا گیا اور گرم عبدالرحمن صاح نہیں یمی بورڈ کے پاس فرش پر دیگر کارکنان دفاتر کی طرح بیٹھ گئے اور - ارفتح /دسمبر سے کالج میں داخلہ کا آغاز کردیا گیا۔لیٹ فیس کے بغیر دس روز تک جاری رہا۔داخلہ کالج کی رپورٹ باقاعدگی سے روزانہ حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں بھیجیائی بھائی تھی۔اگر چہ پاکستان آکر تعلیم جاری رکھنے والوں کی اکثریت کالج کے جھنڈے تلے جمع ہوگئی۔پھر بھی ان کی تصدی ساٹھ سے بڑھ نہ سکی ہے تاہم اتنے طلبہ کا داخلہ لینا بھی ایک گونہ حوصلہ افزا بات تھی جس میں حضرت مصلح موعود مر اسلم حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ناظر علی بنام سکرڑی صاحبین کالی کٹی محره ۳۰ مجری یکم نبوت اومبر میشه نے موجودہ انجنیر رنگ یونیورسٹی لاہور سے متصل کے فصل ۱ نبوت / تو میری سفر ۲ کالم ۵۳ کے رپورٹ تحریر فرمودہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب دیں اللہ تعالے، مرقومہ الفضل۔۔