تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 65
۶۵ پھر میں نے کہا کہ پڑھائی کے دن تو اب ختم ہوئے اب کام کا وقت آگیا۔اب میں تم کو اور صدیقہ کو مضامین کے نوٹ لکھوایا کروں گا اور تم انگریزی میں مضمون تیار کر کے ریویو وغیرہ میں دیا کرو کہنے لگی کہ میں نے تو کبھی مضمون لکھا نہیں چھوٹی آپا کو لکھوایا کریں۔میں نے کہا تم دونوں ہی نے پہلے مضمون نہیں لکھے۔اب تم کو کام کرنا چاہیئے۔کہنے لگی اچھا۔یہ واقعہ میں نے اس لئے بیان کیا کہ مرحومہ میں یہ خوبی تھی کہ با وجود شرمیلی طبیعت کے جب کوئی مفید کام اُسے کہا بھاتا وہ اس پر کاربند ہونے کے لئے تیار ہو جاتی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں اپنی لڑکیوں سے کہتا تو ان میں سے اکثر شرم کی وجہ سے انکار پر اصرار کرتیں۔مگر اُسے جب میں نے دُہرا کر کہا کہ اب تم کو اپنے علم سے دنیا کو فائدہ پہنچانا چاہئے تو باوجود تا تجربہ کاری اور حیاء کے اس نے میری بات کو منظور کر لیا۔تھوڑی دیر کے بعد ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالے نے کہا کہ چھوٹی بچی دودھ کے لئے رو رہی ہوگی میں نے بھانا ہے۔اور ساتھ ہی امتہ الودود بھی اُٹھی۔میری عادت رہی ہے کہ امتہ القیوم اور امتر الو د و ر جب پاس سے اٹھا کر تھیں تو میں کہا کرتا تھا کہ میری بچی اللہ تمہارا حافظ ہو اور پھر پیار کر کے رخصت کیا کرتا تھا۔اس دن میں نے یہ الفاظ تو کہے مگر اُٹھ کر اُسے پیار دے کر رخصت نہیں کیا۔میں نے اس کے چہرہ پر کچھ ملال کے آثار دیکھے اور کہا۔میں آج بیمار ہوں۔اُٹھ نہیں سکتا چوتھے دن اسی بیماری کی حالت میں مجھے اس کی بیماری کی وجہ سے جانا پڑا۔اور میں نے جاتے ہی اس کے ماتھے کو چوما۔مگر اب وہ بیہوش تھی۔اب اس کے چچا ابا کا پیار اس کے لئے خوشی کا موجب نہیں ہو سکتا تھا۔اور اسی بیہوشی کی حالت میں وہ فوت ہو گئی۔ہاں وہ بچی جس نے اپنی ساری عمر علم سیکھنے میں خرچ کر دی اور باوجود شہر میلی طبیعت کے میرے کہنے پہ اس پہ آمادہ ہو گئی کہ اپنی جنس کی بہتری کے لئے وہ مضمون لکھا کرے گی۔جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔کیونکہ خدا تعالے کا منشار کچھ اور تھا۔وہ اسے وہاں لے گیا جہاں باتیں نہیں کی بھاتیں جہاں کام کیا جاتا ہے۔جہاں کوئی کسی انسان کی نصیحت کا محتاج نہیں جہاں صرف اللہ ہی ہر ایک کا ہادی ہوتا ہے۔امتہ الو د و ر ا جب تم اس دنیا میں تھیں میں تمہاری عارضی رخصت پر نہایت محبت سے کہا کرتا تھا بھاؤ میری بھی تمہارا اللہ حافظ ہو۔اب تو تم دیر کے لئے ہم سے بھدا ہو رہی ہو۔اب تو اس سے بھی زیادہ درد