تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 64 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 64

سلام الله حضرت امیر الہ میں نے اس تمہید کے بعد اپنے اس قیمتی مضمون کے آخری حصہ میں صاحبزادی صاحبہ کے بچپن اور زمانہ تعلیم کے حالات پر روشنی ڈالی اور پھر اپنی آخری ملاقات کا ذکر نہایت درد انگیز پیرایہ میں کیا۔چنانچہ تحریر فر مایا که صحت کی درستی کے بعد اسے تعلیم کا شوق پیدا ہوا۔اور وہ برا برتعلیم میں بڑھتی گئی۔انٹرنس تنک تو مجھے خیال رہا کہ یونہی مدرسہ میں جاتی ہے لیکن جب وہ انٹرنس میں اچھے نمبروں پر پاس ہوئی تو مجھے زیادہ توجہ ہوئی اور جب وہ ملتی میں اس سے اس کی تعلیم کے متعلق بات کرتا۔پھر ایف اے میں وہ پاس ہوئی اور میں نے زور دیا کہ صدیقہ بیگم اور امتہ الودود بی اے کا امتحان دیں اور دونوں نے تیاری شروع کر دی مگر پہلی دفعہ کامیاب نہ ہوئیں۔پھر دوسری دفعہ پڑھائی کی۔پھر بھی کامیاب نہ ہوئیں۔میں نے اصرار کیا کہ امتحان دیتے جاؤ چنانچہ اس دفعہ پھر تیاری کی۔جب امتحان کے دن قریب آئے۔عزیزہ کے منجھلے بھائی عزیزم مرنا ظفر احمد بیرسٹر ایٹ لاء اپنی شادی کے لئے قادیان آئے۔امتحان کے دنوں میں شادی کی تاریخ تھی۔انہوں نے کہا کہ امتحان نہ دو۔تم نے پاس تو ہوتا نہیں۔گھر کے اور آدمیوں نے بھی کہا اور اس نے امتحان دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔مجھے معلوم ہوا تو میں نے عزیزم میاں شریف احمد صاحب کو کہا کہ یہ ٹھیک نہیں۔مجھے اس دفعہ ان کے پاس ہونے کی امید ہے۔اگر صدیقہ پاس ہو گئیں تو امتہ الودود کے لئے اکیلا امتحان دینا مشکل ہوگا چنانچے انہوں نے بجا کہ اُسے امتحان کے لئے پھر تیار کر دیا۔امتحان کے بعد کراچی سے واپس آکر ایک دن صدیقہ بیگم کو رقعہ لکھا کہ چچا ابا سے کہہ دیں کہ اگر آپ دعا کریں تو میں پاس کیوں نہ ہو جاؤں۔اب کہ انہوں نے خود امتحان دلایا ہے۔اگر میں پاس نہ ہوئی تو میں نہیں مانوں گی کہ انہوں نے دعا کی ہے۔میں نے کہلا بھیجا کہ میں دعا کر رہا ہوں اور اب کے مجھے یقین ہے کہ تم دونوں پاس ہو بھاؤ گی اور خدا تعالٰی نے دونوں کو پاس کر ہی دیا۔پاس ہونے کے بعد دونوں سہیلیوں نے مبارکبا کا تبادلہ کیا۔ہفتہ کی شام کو امتہ الودود صدیقہ کو مبارکباد دینے آئی اور اتوار کی صبح کو صدیقہ اُسے مبارکباد دینے گئیں۔میں اس دن بہت بیمار تھا۔وہ میرے پاس بیٹھ گئی۔صدیقہ بیگم ساتھ تھیں بعد میں اس کی چھوٹی بہن اور میری بڑی لڑکی اس کی بھاوج بھی آگئیں۔میں نے کہا۔دودی تم پاس نہیں ہوئیں میں پاس ہوا ہوں کیونکہ تم تو امتحان کا ارادہ چھوڑ بیٹھی تھیں۔