تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 66 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 66

۶۶ کے ساتھ میرے دل سے یہ نکل رہا ہے کہ بھاؤ میری بچی تمہارا اللہ حافظ ہو۔نادان کہیں گے۔دیکھو یہ ایک مردہ سے باتیں کرتا ہے۔مگر مردہ تم نہیں وہ ہے نمازیں پڑھنے والے اپنے رب سے رو رو کر دعائیں کرنے والے بھی مرا کرتے ہیں ؟ اور تم تو بڑی دعائیں کرتے والی اور دعاؤں پر یقین رکھنے والی بچتی تھیں۔۔۔۔۔تو اپنے بچی! تو جو دنیا کی تکلیف کے احساس نے اپنے رب کے آگے رویا کرتی تھی تجھے اللہ تعالے کب موت دے سکتا ہے۔یقینا اللہ تعالے ہماری آوازیں تیرے تک پہنچاتا رہے گا اور تیری آوازہ ہمارے تک پہنچاتا رہیگا۔ہماری جدائی عارضی ہے اور تیری نئی جگہ یقیناً پہلی سے اچھی ہے۔دنیوی خیالات کے ماتحت تیری اس بے وقت موت کو دیکھ کر کوئی کہ سکتا تھا کہ پھول تو دو دن بہایہ جانفزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پر ہے جو بن کھلے مرجھا گئے اور میرے دل میں بھی ایک دفعہ یہ شعر آیا۔مگر جب میں نے غور کیا تو یہ شعر تیرے حالات کے بالکل خلاف تھا۔تو تو اس باغ میں گئی ہے جس پر کبھی خزاں ہی نہیں آتی۔حتی وقیوم خدا کی جنات عدن میں مرجھانے کا کیا ذکر۔اسے ہمارے باغ کے نیچے تو کل سے اللہ تعالیٰ کے باغ کا پچھوں بن چکا ہے۔ہمارے دل مرجھا بھی سکتے ہیں غمگین بھی ہو سکتے ہیں مگر تیرے لئے اب کوئی مُرجھانا نہیں۔اب تیرا کام یہی ہے کہ ہر روز پہلے سے زیادہ سرسبز ہو، پہلے سے زیادہ پر رونق ہو۔جب تیری جان نکلی تو میں ایک کونے میں بجا کر سجدہ میں گر گیا تھا اور بعد میں بھی وقتاً فوقتاً دُعا کرتا رہا۔یہانتک کہ تجھے دفن کر کے واپس آئے۔اور وہ دعا یہ تھی کہ اسے اللہ تعالے یہ نا تجربہ کار روج تیرے حضور میں آئی ہے۔تیرے فرشتے اس کے استقبال کو آئیں کہ اُسے تنہائی محسوس نہ ہو۔اس کے دادا کی رُوح اُسے اپنی گود میں اٹھا لے کہ یہ اپنے آپ کو اجنبیوں میں محسوس نہ کرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اس کے سر پر ہو کہ وہ بھی اس کے روحانی دادا ہیں۔اور تیری آنکھوں کے سامنے تیری جنت میں یہ بڑھے۔یہاں تک کہ تیری بخشش کی چادر اوڑھے ہوئے ہم بھی وہاں آئیں۔اور اس کے خوش چہرہ کو دیکھ کر مسرور ہوں۔اس دھا کے ساتھ میں اب بھی سمجھے شخصت کرتا ہوں۔بجا میری بچی تیرا اللہ حافظ ہو اللہ حافظ ہو۔مرزا محمود احمد نه " الفصل " ۲۳ احسان خون ماه صفر ۵۰۴ +191