تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 54
۵ عموماً متنازعہ مسائل کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل موقف کو پہلے سے زیادہ عمدہ طریق پرسمجھنے لگے وہاں بعض سعید الفطرات غیر مبائعین کے حلقہ سے نکل کر نظام خلافت سے وابستہ ہو گئے۔ہندوستان کی فیڈرل کورٹ چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی دعوت پر ۱۴ شہادت کا اپیلیا مرد کو ہندوستان ، فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس کے چیف جسٹس قادیان میں سر مارس گوائمہ کے سی بی۔کے سی بی ایس آئی اور ان کے فرزند مسٹر جان گواٹر ساڑھے نو بجے صبح کی گاڑی سے قادیان تشریف لائے اور 4 شہادت اپریل بر این کو ساڑھے دس بجے بذریعہ کار واپس چلے گئے۔اس مختصر قیام میں چیف جسٹس صاحب نے۔تمام جماعتی اداروں اور مرکزی کارخانوں کا معائنہ کرنے کے علاوہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے وسیع ہال میں چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی زیر صدارت ایک لیکچر بھی دیا اور اپنے تاثرات مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کئے :- میں نے دیکھا ہے کہ آپ کی جماعت کے لوگوں میں ایمان کی آگ شعلہ زن ہے اور اس کے سینے بعض مقاصد اور اصول ہیں جن کے مطابق وہ اپنی زندگیوں کو ڈھالنا چاہتے ہیں۔میں نے آپس میں مساوات مختلف قوموں میں مساوات کے عظیم الشان اصول کو یہاں ایک نئی قوت کے ساتھ کام کرتے پایا ہے۔انسانی اخوت کا یہ اصول انسانی زندگی کا اساس ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ مساوات اور اخوت کی رُوح آپ کی جماعت میں موجود ہے اور اسی ضمن میں میں سمجھتا ہوں کہ میرے اصول آپ کے اصول سے مشترک ہیں ایک اندرونی فتنہ اجرت ای بی دین میں یکایک ایک درونی فتنہ کا نشان ہوا تفصیل اس اجمال کا فتنر کی یہ ہے کہ محمد معیل نامی ایک صاحب نے (جو پہلے صوفی کہاتے تھے پھر اپنے نام کے ستھے ے مثلاً خان عبد الحمید خان صاحب پلیڈر ( فرزند حضرت مولانا غلام حسن خاں صاحب پشاوری و داماد ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ مرحوم) خان عبد المجید خان صاحب اور خان عبد الوحید خان صاحب (خال عبد الحمید خان صاحب پلیڈر کے خلف الرشید) سید ممتاز علی صاحب سابق مہتم مہمان خانہ احمدیہ بلڈنگس لاہور ( الفضل ۲۱ شہادت / ایمیل ۱۳۱۵ بیش صفحه ۲ ، م ہجرت امنی، ۲۴ ہجرت مٹی ) الفضل " ا شہادت / اپریل ۳۱ این صفحه ۱ - ۲ : $190 " الفضل " دار شہادت / اپریل ۱ المان صفحه ۲ : که " الفضل» در شهادت / اپریل و میش صفحه ۲ به 5190 140