تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 53
۵۳ صاحب ہمارے اشد ترین دشمن ہیں۔مگر میں نے کئی بار دل میں غور کیا ہے۔ان کے متعلق بھی اپنے دل میں کبھی بغض نہیں پایا۔اور میں سمجھتا ہوں اگر کسی دشمن کے متعلق دل میں بغض رکھا جائے تو اس سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے ہر شخص کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔اگر کسی نے سزا دینی ہو تو اس نے ، اگر کسی نے بخشنا ہو تو اس نے ، میں کیوں اپنے دل میں بغض رکھ کر اسے " سیاہ کروں۔پس دل میں بغض اور کینہ رکھ کر کام نہ کرو بلکہ محبت و اخلاص رکھ کر کر لے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رض کی اس خاص تحریک پر احمدی جماعتوں نے منظم طریق پر غیر مبالعین تک پیغام حق پہنچانے کی طرف توجہ دی۔اہل قلم بزرگوں اور دوستوں نے " الفضل“ ، ” فاروق “ اور ” ریویو آف ریلیجینز“ میں معلومات افزا مضامین منیش کے دوران لکھے۔تحریک غیر سائین سے متعلق لکھنے والوں میں مکرم مولوی ابوالعطا صحف فاضل ، مکرم قاضی محمد نذیر مضافامیں لائلپوری ، مکرم ملک محمد عبداللہ صاحب فاضل ، مکرم مولوی سید احمد علی صبا حضرت ابوالبرکات مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ، ملک عبد الرحمن صاحب خادم بی۔اے، ایل ایل بی پلیڈر ہم ما گجرات اور شیخ نور شید احمد صاحب سکرٹری مجلس خدام الاحمدیہ بھائی دروانہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔علاوہ ازیں انظارت دعوت و تبلیغ قادیان نے غیر مبائین کے لئے مناسب ریکٹ اور اشتہارات شائع کئے اور ایک کمیٹی اصلاح مابین کے لئے قائم کر دی جس کے فرائض میں سے ایک فرض یہ بھی تھا کہ غیر مبائع اصحاب کے استفسارات کا جواب دیا جائے۔اس کمیٹی کے سکو بڑی مکرم قاضی محمد نذیر صاحب لائلپور ہی مولوی فاضل مقرر کئے گئے۔یہ کمیٹی کے پاس متعدد اعتراضات پہنچتے رہے جن کا مدلل جواب علمائے سلسلہ کی طرفف سے دیا جاتا رہا۔ان سب اصلاحی کوششوں کا محمد علی نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں جماعت احمدیہ کے نوجوان مخصوصاً اور دوسرے افراد له الفضل یہی ماہ ہجرت مئی مایش صفحه ۳ کالم ۱ - ۲ : رحال اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل") حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضا نے ان کی نسبت خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ " بھی ایک بچہ ان کے رد میں مضامین لکھ رہا ہے جس کا نام خورشید احمد ہے اور اس وقت لاہور میں رہتا ہے۔اس کے مضمون ایسے اعلی درجہ کے ہوتے ہیں کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ کوئی بڑی عمر کا آدمی ہے۔مگر بعد میں معلوم ہوا ہے کہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کا تو اسہ ہے اور ۱۷- ۱۸ سال عمر ہے ( " الفضل " ۲۶ وفا جولائی " الفضل " ۱۲۵ هجرت منی سرمایش صفحه ۴ کالم ۲-۰۴ ه