تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 52 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 52

۵۲ دوسرے کو ذلیل کر سکتے ہو مگر سختی سے تم دوسرے کے دل کو فتح نہیں کر سکتے۔اگر تم دل فتح کرنا چاہتے ہو تو تمہارے اپنے دل میں یہ اخلاص اور درد ہونا چاہیے کہ میرا ایک بھائی گمراہ ہو رہا ہے اُسے کسی طرح میں ہدایت پر لاؤں جب تک یہ احساس اور یہ جذبہ تمہارے اندر نہ ہوگا۔اس وقت تک تمہاری تبلیغ موثر نہیں ہو سکتی چاہے تمہیں بظاہر شاندار معلوم ہو اور بچا ہے بظاہر جب تم مضمون لکھو تو لوگ کہیں کہ خوب مضمون لکھا۔کیونکہ کامیابی یہ نہیں کہ لوگ تمہاری تعریف کریں بلکہ کامیابی یہ ہے کہ دوسروں کی ہدایت کا موجب بنو۔پس جو مضمون لکھنے والے ہیں انہیں بھی تھیں کہتا ہوں کہ سنجیدگی اور محبت سے مضامین لکھو اور جو زبانی تبلیغ کرنے والے ہوں انہیں بھی کہیں نصیحت کرتا ہوں کہ سنجیدگی اور محبت سے تبلیغ کرد" اس سلسلہ میں اصلاح مابین کے سکرٹریوں کو ارشاد فرمایا کہ تب انہیں مرکز سے ٹریکٹ وغیرہ بھجوائے جائیں تو وہ محنت سے انہیں غیر مبائعین کے گھروں تک پہنچائیں تا اُن میں سے جو سعید لوگ ہیں وہ سلسلہ کی طرف توجہ کریں " سلہ اس تحریک کے بعد حضور نے 19 شہادت / اپریل میں کو ایک اور خطبہ جمعہ بھی اس مضمون پر دیاں چنانچہ حضور نے فرمایا : یکن دوستوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ جو مضمون بھی لکھیں نرمی اور محبت سے لکھیں۔یہ صحیح ہے کہ جہاں کوئی تلخ مضمون آئے گا اس کی کچھ نہ کچھ تلخی تو باقی رہے گی لیکن جہاں تک ہو سکے الفاظ نرم استعمال کرنے چاہئیں۔۔۔میں مانتا ہوں کہ پیغامیوں کی طرف سے ہمیشہ سختی کی جاتی ہے۔اس لئے بعض دوست جواب میں سختی سے کام لیتے ہیں۔مگر مجھے یہ طریق سخت نا پسند ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ شدید سے شدید دشمن کے متعلق بھی سخت کلامی مجھے پسند نہیں۔میرے نزدیک مولوی ثناء اللہ # " الفضل" هر شہادت / اپریل ۳۱ مش صفحه ۶ - ۲۷ ہے اس خطبہ کے چند ایام بعد اخبار الفضل "۔شہادت / اپریل میں ایک مضمون نکلا جس میں لاہوری فریق کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔اس پر حضرت امیر المومنین نے ناظر صاحب اعلی کو فوری ارشاد فرمایا کہ " با وجود ممانعت کے ایسا کیا گیا ہے۔اس لئے جب ایک انمین مجھے اس امر کی نسبت تسلی نہ دلائے کہ آئندہ سخت الفاظی نہیں ہوگی میں اخبار کی اشاعت بند کرتا ہوں “ اس کے بعد جب تک صدرا نمین احمدیہ نے مضامین کی اشاعت میں نرم پالیسی اختیار کرنے کا واضح وعدہ نہیں کر لیا۔حضور نے اخبار کی اشاعت پر پابندی نہیں اُٹھائی (ملاحظہ ہو دیکارڈ نظارت علیار جیٹر خ- م ۱۳۱۹ مش *