تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 622 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 622

۵۹۴ اس جلسہ میں شریک ہونے کے لئے تشریف لے گئیں جن کے لئے لاہور اسٹیشن پر جماعت احمدیہ لاہور کی طرف سے لاریوں کا انتظام تھا جلس کا آغاز ظہر وعصر کی نمازیں ادا کرنے کے بدید تاریخی جلسہ شروع ہوا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے تلاوت قرآن کریم فرمائی اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے نے حضرت مسیح موعود عليه الصلاة والسّلام کے سفر ہوشیار پور اور پھلہ کے حالات بیان کئے اور المصلح الموعود کے متعلق اُس مقام پر خدا کا جو کلام نازل ہوا اُسے نہایت موثر اور جذب رکھنے والے انداز میں بیان فرمایا۔اس کے بعد حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کھڑے ہوئے اور حضر امیر المومنین کی ابتدائی تقریب حور نے وہ پرملال تقریر فرمائی جس کا ایک ایک لفظ دل میں اترتا وہ جارہا تھا۔قلوب ڈھل رہے تھے۔آسمان سے انوار کا نزول ہر شخص مشاہدہ کر رہا تھا۔" المصلح الموجود کے متعلق بخدا نے جو کلام نازل فرمایا۔اس میں خدائے : وبھل نے مصلح موعود کی ایک علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کا نزول ایسا ہوگا - كَانَ الله نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ گویا خدا آسمان سے اتر آیا۔اور وہ لوگ جو اس جلسہ میں شریک ہوئے ان میں سے ہر شخص اس بات کی شہادت دے سکتا ہے کہ ایسا ہی نظارہ وہ اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔بلکہ ایک مقام پر تو حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے یہ کلمات بلند ہوئے ہو ہزاروں انسانوں نے اپنے کانوں سے سنے کہ " اس وقت میں نہیں بول رہا بلکہ خدا میری زبان سے بول رہا ہے“ حضور نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد عجز و انکسار کے ساتھ وہ قرآنی دعائیں پڑھنا شروع کیں تو قبل ازیں علیہ ہوشیار پور کے موقعہ پر بھی پڑھی تھیں۔تمام مجمع حضور کی آواز کے ساتھ ساتھ آہستگی مگر وقت ، تضرع اور خشوع کے ساتھ وہ دعائیں پڑھتا گیا۔دلوں میں درد تھا اور آنکھوں میں تھی، اور ہر شخص آستانہ ایزدی پر گرا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔وہ لوگ جو ہماری جماعت میں شامل نہیں تھے اور جنہوں نے بینک اسلام کے ایسے اشارہ خدام اپنی آنھوں نے نہیں دیکھے تھے وہ تو تصویر حیرت بنے کھڑے ہی تھے، خود جماعت احمدیہ کے افراد اپنے ایمانوں میں ایک نمایاں تازگی محسوس کر رہے تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس انکشاف عظیم کے معا بعد آسمان کے دروازے کھل گئے ہیں۔۔۔اور اسلام کی روحانی زندگی کا آغاز ہو گیا ہے۔اب کوئی نہیں جو اس فتح کو روک سکے اور کوئی نہیں جو ان دروازوں کو بند کر سکے۔