تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 623
۵۹۵ دعاؤں کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نے جلسہ ہوشیار پور کی طرح ایک مفصل تقریر فرمائی جو قریباً سوا گھنٹہ جاری رہی۔یہ تقریبہ اہل لاہور کے لئے حجت تھی۔یہ تقریر غیر مبائع اصحاب کے لئے محبت تھی۔یہ تقریرہ ہر مخالف اسلام کے لئے محبت تھی محضور نے بڑی تحدی کے ساتھ اسلام اور محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم وز حضرت مسیح موعود علیہ سلوۃ والسّلام کی صداقت اور اپنے دعوی مصلح موعود کو پیش فرمایا ہے سيدنا المصلح الموعود نے اپنی تقریمہ کے پہلے حصہ میں اپنے خاندانی حالات اور پھر اللہ کے اختلافات سلسلہ کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مصلح موعود سے متعلق بیشارت اور اس کے ظہور پز کے ہونے کا تذکرہ نہایت دلکش انداز میں کرنے کے بعد فرمایا :- دنیا میں کون کہہ سکتا ہے کہ میرے ہاں ضرور بیٹا پیدا ہوگا۔پھر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بیٹا زندہ رہے گا۔پھر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک جماعت کا امام بنے گا۔پھر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔۔۔یقینا کوئی انسان ایسی باتیں اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتا۔۔۔عرض۔۔۔خدا تعالے کی تازہ تائیدات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سلسلہ خدا تعالے کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور اس کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہے۔اس طرح وہ پیشگوئی ہو آج سے انسٹھ سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کی گئی تھی کہ میں تجھے ایک بیٹا عطا کروں گا جو خدا تعالیٰ کی رحمت کا نشان ہو گا جو خدا تعالے کی قدرت کا نشان ہوگا۔جو خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کا نشان ہوگا۔اس کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔وہ پیشگوئی بڑی شان اور جاہ و جلال کے ساتھ پوری ہوگئی۔آج سینکڑوں ممالک زبان حال سے گواہی دے رہے ہیں کہ میرے زمانہ خلافت میں ہی اسلام کا نام ان کو پہنچا۔میرے زمانہ خلافت میں ہی احمدیت کے نام سے وہاں کے رہنے والوں کے کان آشنا ہوئے، اس پہلی تقریب کے بعد مبلغین سلسلہ نے اختصار کے ساتھ وہ تبلیغی کارنامے پیش کئے ہو مبلغین کی تقریریں المصلح الموعود کے زمانہ میں حضور کی زیر ہدایت انہوں نے انجام دیئے اور جن کی وجہ سے نہ صرف مصلح الموعود نے زمین کے کناروں تک شہرت پائی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا نام بھی دنیا کے کناروں تک پہنچا۔چنانچہ انگلستان کے متعلق حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیاتی ناظر علی نے ، پین : اٹلی ہنگری، البانیہ، یوگوسلاویہ ، پولینڈ، زیکو سلو و یکیہ اور جنوبی امریکہ کے متعلق مولوی عبد الرحمن صاحب انور انچارج لة الفضل "۵ در امان مان به ۱۹ 4 ه " "الفضل صفحه ۱۵-۲۱۶ ۱ بلیغ / فروری 1