تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 621
۵۹۳ اعلان ظہور صلح موعود کے لئے دوسرا پر شکوہ جلسہ الامان / مارچ مہیش کو لاہور میں جکڑی ہوں منعقد ہوا۔اس جلسہ کے مہمانوں کے کھانے کا انتظام چوہدری اسد اللہ خان صاحب کے مکان واقع نیز روڈ) پر تھا۔اور ملنگانہ ہوسٹل میڈیکل کالج سے متصل پٹیالہ ہاؤس کی گراؤنڈ میں تھی جہاں ایک ai وسیع شامیانہ لگایا گیا تھا۔اس جلسہ لاہور میں نہ صرف احمدیہ جماعت کے افراد شامل تھے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ہندو سکھ عیسائی اور دوسرے مذاہب کے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ آخر وقت تک تمام جلسہ کی کارروائی سُنی اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق فائدہ اُٹھایا۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود سوا دو بجے رالمومنین کی تشریف آوری کے در کی نگاہ میں وقت فرار ہوئے حضور کی تشریف آوری سے قبل شریخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے نے حضور کا یہ ارشاد مبارک تمام لوگوں کو سنایا جو تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد دہرایا جاتا رہا کہ درود اور ذکر الہی میں وقت گزاریں ، لغو بات کوئی نہ کرے نہ آتے نہ جاتے۔دعائیں کثرت سے کریں۔نعرہ کوئی نہ لگائے" کچھ وقفہ کے بعد حضور مجلسہ گاہ میں تشریف لے آئے اور حضور نے جب گاہ میں ظہر وعصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھیں۔جلسہ گاہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ الہام کہ جلسہ گاہ کا عام منظر عند تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔اور الصلح الموعود کے متعلق یہ الہام کہ " وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی " موٹے حروف میں لکھوا کر سٹیج کے قریب لگا دیا گیا تھا۔اس انتظام میں مجلس خدام الاحمدیہ لاہور نے نمایاں حصہ لیا۔جماعت احمدیہ لاہور کے دیگر افراد کبھی اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر کمر بستہ تھے۔لاوڈ سپیکر کا نہایت عمدہ انتظام تھا اورعورتوں کے لئے بھی بر رعایت پر وہ جلسہ سینے کا اہتمام تھا۔قادیان سے بہت سے دوست ایک روز قبل لاہور پہنچ چکے تھے۔باقی احباب یوسینکڑوں کی تعداد میں تھے ،۲ در امان مارچ کی صبح کو روانہ ہوئے۔اس غرض کے لئے بعض ڈبے ریزرو کرائے گئے تھے جن کی وجہ سے بہت سہولت رہی ہحضرت میر محمد اسحاق صاحب امیر قافلہ تھے۔قادیان کی بہت سی خواتین بھی له " الفضل " ۱۲ رامان / مارج مش مصفیه ۴ آپ اُن دنوں امیر جماعت لاہور تھے ہے