تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 577 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 577

۵۵۶ جلد جلد ترقی کی طرف اپنے قدموں کو بڑھاؤ میں نہیں جانتا کہ جب خدا نے میرے متعلق یہ کہا ہے کہ یکن جلد جلد بڑھوں گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میری موت جلد آنے والی ہے۔یا یہ مطلب ہے کہ یکن جلد جلد ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاؤں گا۔تم ان دو میں سے کوئی بھی پہلو لے لو۔بہر حال اس امر کو اچھی طرح یاد رکھی کہ اب جماعت میں سے وہی شخص اپنے ایمان کو سلامت رکھ سکے گا اور وہی شخص با ایمان کر سکے گا جو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور اس کے سلسلہ کی ترقی کے لئے جلد جلد قدم اُٹھائے گا۔اگر تمہارا جرنیل دشمن کی فوج پر حملہ کر دے اور تم آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہو تو کون تمہیں وفادار کہہ سکتا ہے ؟ کون تمہاری اطاعت کا قائل ہو سکتا ہے ؟ کون تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے؟ جب خدا نے مجھے کہا کہ میں بجلد جلد قدم اُٹھاؤں گا۔اور جب خدا نے مجھے یہ نظارہ دیکھایا کہ میں بھاگتا چلا جارہا ہوں اور زمین میرے پاؤں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے تو در حقیقت خدا نے تم کو کہا کہ تم جلد مجلد پڑھو اور جلد زمینوں کو طے کرتے پھلو جب ایک شخص کو افسر مقرر کیا جاتا ہے تو اس افسر کو حکم دینے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ماتحتوں کو اس کے واسطہ سے مسکم دیا جائے۔قرآن کریم میں اللہ تعالے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ آدم کو سجدہ کرو اور ڈانٹتا شیطان کو ہے کہ تم نے کیوں سجدہ نہ کیا بہ شیطان میں نفسانیت سہی ، ہزاروں گناہ سہی ، مگر اس میں اتنی عقل ضرور تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا کہ اسے خدا تو نے مجھے کب حکم دیا تھا ؟ تُو نے تو فرشتوں کو حکم دیا تھا۔مجھے تو حکم دیا ہی نہیں تھا۔وہ جانتا تھا کہ فرشتوں کو جب حکم دیا گیا تو اس کے معنے یہی تھے کہ میں بھی اتباع کروں۔پس وہ نادان جو کہتا ہے کہ یہ تو مصلح موعود کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ جلد جلد بڑھے گا میرے متعلق نہیں کہا گیا کہ میں جلد جلد بڑھوں۔وہ شیطان سے بھی اپنے آپ کو زیادہ احمق قرار دیتا ہے شیطان نے تو تسلیم کر لیا تھا کہ جب فرشتوں کو حکم دیا گیا تو در حقیقت اُن کے واسطہ سے مجھے بھی حکم دیا گیا۔گری تسلیم نہیں کرتا کہ مصلح موعود کو جو حکم دیا گیا ہے، اس کے ماتحت وہ خود بھی آتا ہے۔پس ہر احمدی کو سمجھ لینا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر میرے متعلق جو یہ خبر دی ہے کہ میں مجلد جلد بڑھوں گا اس کے معنے یہ نہ تھے کہ دشمنوں کی صفوں کے بالمقابل میں اکیلا کھڑا ہوں گا۔بلکہ یہ تھے کہ کام کی اہمیت کے پیش نظر میرا فرض ہوگا کہ میں تیزی اور سرعت کے ساتھ اپنے قدم کو بڑھاتا چلا جاؤں اور جب میں دشمن کے مقابلہ میں جلد جلد قدم