تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 555
۵۳۶ اُن سے اس طرح کہا کہ مریم مرتا تو ہر ایک نے ہے دیکھو اگر میں پہلے مر بھاؤں تو میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کردوں گا کہ وہ کبھی کبھی مجھ کو مہاری ملاقات کے لئے اجازت دیا کرے اور اگر تم پہلے فوت ہو گئیں تو پھر تم اللہ تعالٰی سے درخواست کرتا کہ وہ تمہاری روح کو کبھی کبھی مجھ سے ملنے کی اجازت دے دیا کرے اور مریم اس صورت میں تم میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے سلام کہنا۔اس کے بعد میں نے کہا۔مریم تم بیماری کی وجہ سے قرآن کریم نہیں پڑھ سکتیں۔آؤ میں تم کوقرآن کریم پڑھ کہ سناؤں۔پھر میں نے سورہ میں جو ان کو بہت پیاری تھی پڑھ کو سُنانی شروع کی مجھے اس کا علم نہ تھا بعد میں اُن کی بعض سہیلیوں نے بتایا کہ ایسا تھا) اور ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ بھی سنانا شروع کیا جب میں سورۃ پڑھ چکا تو انہوں نے آہستہ آواز میں کہا کہ اور پڑھیں۔تب میں نے سمجھ لیا کہ وہ اپنے آخری وقت کا احساس کر چکی ہیں اور اب میں نے سورہ یسین پڑھنی شروع کر دی۔اس کے بعد چونکہ اب اپنے آخری وقت کا انکشاف ہو چکا تھا۔کسی بات پر جو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرے پیارے تو میں نے اُن سے کہا۔اب وہ وقت ہے کہ تم کہ میرا پیار بھی بھول جانا چاہیئے۔اب صرف اسی کو یاد کرو ہجو میرا بھی اور تمہارا بھی پیارا ہے۔مریم ! اسی پیارے کو یاد کرنے کا یہ وقت ہے۔اور میں نے کبھی لا اله الا انت سُبحَنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّلِمِينَ اور کبھی رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهَ لَا يَغْفِرُ الله ثوب الا انت اور کبھی بِرَحْمَتِكَ اسْتَغِيْثُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمین پڑھنا شروع کیا۔اور اُن سے کہا کہ وہ اُسے دہراتی بجائیں۔کچھ عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ ان کی زبان اب خود بخود اذکار پر چل پڑی ہے۔چہرہ پر مجیب قسم کی ملائمت پیدا ہو گئی اور علامات سے ظاہر ہونے لگا جیسے کہ خدا تعالے کو سامنے دیکھ کر ناز سے اس کے رحم کی درخواست کر رہی ہیں۔نہایت میٹھی اور پیاری اور نرم آواز سے انہوں نے بار بار يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحمتِكَ يَسْتَغِيثُ کہنا شروع کیا۔یہ الفاظ وہ اس انداز سے کہتیں اور اس نیت کہتے وقت اُن کے ہونٹ اس طرح گول ہو جاتے کہ معلوم ہوتا تھا اپنے رب پر پورا یقین رکھتے ہوئے اس سے ناز کر رہی ہیں اور صرف عبادت کے طور پر یہ الفاظ کہہ رہی ہیں در نہ اُن کی روح اس سے کہہ رہی ہے کہ میرے رب مجھے معلوم ہے تو مجھے معاف کر ہی دے گا۔اس کے بعد مکیں نے ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب کو بلوایا کہ اب مجھ میں برداشت نہیں آپ تلقین کرتے رہیں۔چنانچہ انہوں نے کچھ دیر تلاوت اور اذکار کا سلسلہ جاری رکھا۔اس کے بعد کچھ دیر کے لئے پھر میں آگیا۔پھر میر صاحب تشریف لے آئے۔باری باری ہم تلقین کرتے رہے۔اب اُن کی آواز رک گئی تھی مگر ہونٹ ہل رہے تھے اور زبان بھی حرکت کر رہی تھی۔اس وقت