تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 556 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 556

۵۳۷ ڈاکٹر لطیف صاحب دہلی سے تشریف لے آئے اور انہوں نے کہا کہ بیماری کی وجہ سے سانس پر دباؤ ہے۔اور ڈر ہے کہ جانکندن کی تکلیف زیادہ سخت نہ ہو اس لئے آکسیجن گیس سنگھانی چاہیئے۔چنانچہ وہ لائی گئی اور اس کے سنگھانے سے سانس آرام سے چلنے لگ گیا مگر آہستہ ہوتا گیا لیکن ہونٹوں میں اب تک ذکر کی حرکت تھی۔آخرد و بجکر دس منٹ پر جبکہ میں گھبرا کر باہر نکل گیا تھا۔عزیزم میاں بشیر احمد صاحب نے باہر نکل کر مجھے اشارہ کیا کہ آپ اندر چلے بھائیں۔اس اشارہ کے معنی یہ تھے کہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے۔میں اندر گیا اور مریم کو بے حس و حرکت پڑا ہو پایا۔مگرچہرہ پر خوشی اور اطمینان کے آثار تھے۔ان کی لمبی تکلیف اور طبیعت کے پڑی اپن کی وجہ سے ڈر تھا کہ وفات کے وقت کہیں کسی بے صبری کا اظہار نہ کر بیٹھیں۔اس لئے ان کے شاندار اور مومنانہ انجام پر میرے منہ سے بے اختیار الحمد اللہ نکلا اور میں اُن کی چھار پائی کے پاس قبلہ رخ ہو کر سجدہ میں گر گیا۔اور دیر تک خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہا۔کہ اُس نے اُن کو ابتلا سے بچایا اور شکر گزاری کی حالت میں اُن کا خاتمہ ہوا۔اس کے بعد ہم نے اُن کے قادیان سے بجانے کی تیاری کی اور شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر لا کر انہیں غسل دیا گیا۔پھر موٹروں اور لاریوں کا انتظام کر کے قادیان خدا کے بیچ کے گھر ان کو لے آئے۔ایک دن اُن کو انہی کے مکان کی نچلی منزل میں رکھا اور دوسرے دن عصر کے بعد بہشتی مقبرہ میں اُن کو خدا کے مسیح کے قدموں میں ہمیشہ کی جسمانی آرامگاہ میں خود میں نے سر کے پاس سہارا دے کو اُتارا اور لحد میں لٹا دیا۔اللَّهُمَّ ارْحَمْهَا وَارْحَمْنِي مرحومہ کی اولاد چار بچے ہیں۔تین لڑکیاں اور ایک لڑکا۔یعنی امتہ الحکیم۔امتہ الباسط - طاہر احمد اور امتہ الجمیل۔سمہم اللہ تعالے وَكَانَ مَعَهُمْ فِي الدُّنْيا والاخرة۔جب مرحومہ کو لے کر ہم شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر پہنچے تو چھوٹی لڑکی امتہ المیل جو اُن کی اور میری بہت لاڈلی تھی اور کل سات برس کی عمر کی ہے۔اُسے میں نے دیکھا کہ ہائے امی ہائے امی کہ کر چیخیں مار کر رو رہی ہے۔میں اُس بچی کے پاس گیا اور اُسے کہا جمتی رہم اُسے حتی کہتے ہیں) اتی اللہ میاں کے گھر گئی ہیں۔وہاں اُن کو زیادہ آرام ملے گا۔اور اللہ میاں کی یہی مرضی تھی کہ اب وہ وہاں چلی جائیں۔دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ، تمہارے دادا جان فورت ہو گئے۔کیا تمہاری امی ان سے بڑھ کر بھتی؟ میرے خدا کا سایہ اس بچی سے ایک منٹ کے لئے بھی جدا نہ ہو میرے اس فقرہ کے بعد اس نے ماں کے لئے آجتک کوئی چیخ نہیں ماری اور یہ فقرہ سُنتے ہی بالکل خاموش ہوگئی بلکہ دوسرے دن جنازہ کے وقت جب اس کی بڑی بہن جو کچھ بیمار ہے صدمہ سے چیخ مار کر بیہوش ہو گئی تومیری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ کے پاس جا کر میری جمتی اُن سے کہنے لگی جھوٹی آپا (انہیں بچے چھوٹی آپا کہتے ہیں، باجی کتنی پاگل ہے۔ابا بیان کہتے ہیں۔اُمتی کے مرنے