تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 554 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 554

۵۳۵ انہیں دونوں جہان میں بڑے مدارج عطا فرمائے، رونے لگیں۔ان کا بیان ہے کہ مجھے روتے دیکھ کر مریم بیگم محمدت سے بولیں۔پگلی روتی کیوں ہو۔اللہ تعالے میں سب طاقت ہے دُعا کرو وہ مجھے شفا دے سکتا ہے۔چار مارچ کی رات کو میر محمد اسمعیل صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے مجھے بتایا کہ اب دل کی حالت بہت نازک ہو چکی ہے۔اب وہ دوائی کا اثر ذرا بھی قبول نہیں کرتا اس لئے میں دیر تک وہاں رہا۔پھر جب انہیں کچھ سکون ہوا تو شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر پر سونے کے لئے چلا گیا۔کوئی چار بجے آدمی دوڑا ہوا آیا کہ جلد ملیں حالت نازک ہے۔اس وقت میرے دل میں یہ یقین پیدا ہو گیا کہ اب میری پیاری مجھ سے رخصت ہونے کو ہے اور میں نے خدا تعالیٰ سے اپنے اور اس کے ایمان کے لئے دعا کرنی شروع کر دی۔اب دل کی حرکت کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی تھی اور میرے دل کی ٹھنڈک دار الآخرت کی طرف اُڑنے کے لئے پر تول رہی تھی۔کوئی دس بجے کے قریب میں پھر ایک دفعہ جب پاس کے کمرہ میں جہاں میں معالجین کے پاس بیٹھا ہوا تھا اُن کے پاس گیا تو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔اور شدید ضعف کے آثار ظاہر ہو رہے تھے مگر ابھی بول سکتی تھیں۔کوئی بات انہوں نے کی جس پر میں نے انہیں نصیحت کی۔انہوں نے اس سے سمجھا کہ گویا ئیں نے یہ کہا ہے کہ تم نے روھانی کمزوری دکھائی ہے۔رحم کو اُبھارنے والی نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا کہ میرے پیار سے آقا ! مجھے کافر کر کے نہ ماریں یعنی اگر میں نے غلطی کی ہے تو مجھے یہ ناراض نہ ہوں مجھے صحیح بات بتا دیں۔اس وقت یں نے دیکھا کہ موت تیزی سے اُن کی طرف آرہی ہے۔میر احساس دل اب میرے قابو سے نکلا جا رہا تھا میری طاقت مجھے جواب دے رہی تھی۔مگر میں سمجھتا تھا کہ خدا تعالئے اور مرحومہ سے وفاداری چاہتی ہے کہ اس وقت یں انہیں ذکر الہی کی تلقین کرتا جاؤں اور اپنی تکلیف کو بھول جاؤں میں نے اپنے دل کو سنبھالا اور ٹانگوں کو زور سے قائم کیا اور مریم کے پہلو میں مجھک کر کہا۔تم خدا تعالے پر باطنی نہ کرو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کی نواسی (وہ سید تھیں اور سیح موعود کی بہو کہ کا فر کر کے نہیں مارے گا۔اس وقت میرا دل چاہتا تھا کہ ابھی چونکہ زبان اور کان کام کرتے ہیں میں ان سے کچھ محبت کی باتیں کولوں مگر میں نے فیصلہ کیا کہ اب یہ اس جہان کی رُوج نہیں اُس جہان کی ہے۔اب ہمارا تعلق اس سے ختم ہے۔اب صرف اپنے رب سے اس کا واسطہ ہے۔اس واسطہ میں خلل ڈالتا اس کے تقدس میں خلل ڈالنا ہے۔اور میں نے چاہا کہ انہیں بھی آخری وقت کی طرف توجہ دلاؤں تاکہ وہ ذکر انہی میں مشغول ہو جائیں۔مگر صاف طور پر کہنے سے بھی ڈرتا تھا کہ ان کا کمزور دل کہیں ذکر الہی کا موقعہ پانے سے پہلے ہی بیٹھ نہ بھائے۔آخر سوچ کو میں نے