تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 426 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 426

۴۱۵ حضور کے اس خطبہ کے بعد بعض مخلصین جماعت نے تقریری مقابلوں ہی کو سراسر نا جائز قرار دے لیا بعض لوگ یہ سمجھے کہ حضرت اقدس کی مباحثات سے مراد صرف ایسے مباحثات ہیں جن میں مذہبی مسائل زیر بحث لائے بھائیں۔دیگر مسائل پر مشتمل مباحثات قبیح اور نا پسندیدہ نہیں ہیں۔اس پر پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد ایم۔اے نے مزید وضاحت و راہ نمائی کے لئے حضرت امیر المومنین کی خدمت اقدس میں حسب ذیلی مریضہ تحریر کیا - پیارے آقا ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ جامعہ احمدیہ کی طرفت سے ایسے تقریر کا مقابلے کروائے جانے کا پروگرام مرتب کیا جا رہا ہے جس کے ماتحت مختلف اداروں سے مقررہ ایک ہی موضوع پر تقریر کریں مثلاً دیانت و امانت موضوع رکھ دیا جائے جس پر تقریروں کے لئے مختلف اداروں کو دعوت دی جائے۔چونکہ اس میں ایک پہلو پر تقریریں ہوں گی اس لئے اس میں مناظرہ کی صورت نہیں ہوگی۔بعض اصحاب کا خیال ہے کہ حضور کے ایک گذشتہ خطبہ جمعہ کی روشنی میں ایسے مقابلوں کی بھی اجازت نہیں اس لئے حضور کی خدمت میں عاجزانہ درخواست ہے کہ حضور مطلع فرما دیں کہ اس قسم کے مقابلے حضور کے منشاء کے خلاف تو نہیں ، بعض حلقوں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضور کی مراد تو فقط مذہبی امور میں مناظروں کو بند کرنے سے ہے۔سیاسی امور پر مناظرے حضور نا پسند نہیں فرماتے۔بصد ادب عرض ہے کہ از راہ شفقت اس پہلو پر بھی روشنی فرماویں جزاکم اللہ احن الجزاء حضور کا اونی غلام خاکسار خالد ۱۸ اس پر حضور نے اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل عبارت تحریر فرمائی۔" دونوں باتیں ایسی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔مختلف لوگوں کے ایک موضوع کی تائید میں مضمون لکھنا مباحثہ کس طرح ہو سکتا ہے اور جبکہ میں نے مثال ہی سیاسی مباحثہ کی دی تھی یعنی مخلوط انتخاب کی تو یہ کہنا کہ میری مراد سیاسی مباحثات سے نہیں ہے کسی احمق کا ہی خیال ہو سکتا ہے۔" الفضل " ۶ بر احسان جوان به مش سفره۔" ۱۳۲۲مه ۰ مرزا محمود احمد نے