تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 425
Min کے طور پر اپنے باپ کے سر میں جوتیاں مارسکتا ہے تو ڈیبیٹس سے زیادہ حماقت کی کوئی بات نہیں۔ہر احمدی وفات مسیح کا قائل ہے مگر ڈیلیٹ کے لئے بعض حیات مسیح کے دلائل دینے لگتے ہیں۔میں تو ایسے شخص سے یہی کہوں گا کہ بے حیا بخدا تعالیٰ نے تجھے ایمان دیا تھا مگر تو گھر کی چادر اوڑھناچاہتا ہے۔پس یہ ڈیلیٹس بھی آوارگی میں داخل ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں یہ توفیق دی ہے کہ حق بات کو تم نے مان لیا تو اس کا شکریہ ادا کرو نہ کہ خواہ مخواہ اس کی تردید کر و بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس سے عقل بڑھتی ہے۔لیکن اس عقل کے بڑھانے کو کیا کرنا ہے جس سے ایمان جاتا رہے۔دو نو باتوں کا موازنہ کرنا چاہیے۔اگر ساری دنیا کی عقل مل جائے اور ایمان کے پہاڑ میں سے ایک ذرہ بھی کم ہو جائے تو اس عقل کو کیا کرتا ہے۔یہ کوئی نفع نہیں بلکہ سرا سرخسران اور تہا ہی ہے۔ہیں یہ بھی آوارگی میں داخل ہے۔اور میں نے کئی دفعہ اس سے روکا ہے گر پھر بھی پیٹیں ہوتی رہتی ہیں جس طرح کوڑھی کی خارش ہوتی ہے اور وہ رہ نہیں سکتا۔اسی طرح ان لوگوں کو بھی کچھ ایسی خارش ہوتی ہے کہ جب تک ڈیلیٹ نہ کرالیں چین نہیں آتا اور پھر دینی اور مذہبی مسائل کے متعلق بھی ڈیٹیں ہوتی رہتی ہیں حالانکہ وہ تمام مسائل حین کی صداقتوں کے ہم قائل ہیں یا جن میں سلسلہ اظہار رائے کر چکا ہے ان پر بحث کرنا دماتی آوارگی ہے اور حقیقی ذہانت کے لئے سخت مضر ہے۔میں نے سو دفعہ بتایا ہے کہ اگر اس کے بجائے یہ کیا جائے کہ دوست اپنی اپنی جگہ مطالعہ کر کے آئیں اور پھر ایک مجلس میں جمع ہو کہ یہ بتائیں کہ فلان مخالف نے یہ اعتراض کیا ہے بجائے اس کے کہ یہ کہیں کہ میں یہ اعتراض فلان مسئلہ پر کرتا ہوں۔اگر مولوی ثناء اللہ صاحب یا مولوی ابراہیم صاحب یا کسی اور مخالف کے اعتراض پیش کئے جائیں اور پھر سب مل کر جواب دیں اور خود اعتراض پیش کرنے والا بھی جواب دے تو یہ طریق بہت مفید ہو سکتا ہے۔مگر ایسا نہیں کیا جاتا بلکہ ڈیبیٹوں کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور انگریزوں کی نقل کی بھاتی ہے کہ ہاؤس " یہ کہتا ہے۔ہماری مجلس شوری میں بھی یہ ہاؤس" کا لفظ داخل ہو گیا تھا مگر میں نے تنبیہ کی۔اس پر وہاں سے تو نکل گیا ہے مگر مدرسوں میں رواج پکڑ رہا ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کہنے سے اس بات میں کونسا سر مخاب کا پر لگ جاتا ہے۔سیدھی طرح کیوں نہیں کہہ دیا جاتا کہ جماعت کی یہ رائے ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ دماغ کو کفر کی کاسہ لیسی میں لفت اور سرور حاصل ہوتا ہے۔الفصل" در تاریخ ۹۳۹ صفحه ۰۸