تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 424
۱۳ تو ابتداء میں الہ ساجواب دیتا ہوں کہ کئی لوگوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کسی سوال پر پہلے پہل میرا جواب من کہ یہ خیال کیا کہ مشاہدہ میں جواب نہیں دے سکتا۔اور در اصل ٹالنے کی کوشش کرتا ہوں مگر جب کوئی پیچھے ہی پڑ جائے تو میں جواب کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا جواب دیتا ہوں کہ وہ بھی اپنی غلطی محسوس کر لاتا ہے۔یاد رکھو۔سچائی کے لئے کسی بحث کی ضرورت نہیں ہوتی۔میں نے ہمیشہ ایسی باتوں سے روکا ہے۔ڈیبیٹنگ کلبیں بھی میرے نز دیک آوارگی کی ایک شاخ ہے اور میں اس سے ہمینہ روکتا رہتا ہوں۔لیکن یہ چیز بھی کچھ ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ براہمہ بھاری ہے بھالانکہ اس سے دل پر سخت زنگ لگ جاتا ہے۔ایک شخص کسی چیز کو مانتا نہیں مگر اس کی تائید میں دلائل دیتا جاتا ہے تو اس سے دل پر زنگ لگنا لازمی امر ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریق ایمان کو خراب کرنے والا ہے۔مولوی محمد احسن صاحب امرو ہوئی حضرت مسیح موعود علیه السلام گوشن یا که مولوی بشیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت مریکہ اور میں مخالفت تھا۔مولوی بشیر صاحب ہمیشہ دوسروں کو براہین احمدیہ پڑھنے کی تلقین کرتے اور کہا کرتے تھے کہ یہ شخص مجدد ہے۔آخر میں نے اُن سے کہا کہ آؤ مباحثہ کر لیتے ہیں۔مگر آپ تو چونکہ مؤید ہیں آپ مخالفانہ نقطہ نگاہ سے کتابیں پڑھیں اور میں مخالفت ہوں اس لیئے موافقانہ نقطہ نگاہ سے پڑھوں گا۔سات آٹھ دن کتابوں کے مطالعہ کے لئے مقرر ہو گئے اور دونوں نے کتابوں کا مطالعہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جو مخالف تھا احمدی ہو گیا اور وہ جو قریب تھے بالکل دُور پہلے گئے۔ان کی سمجھ میں بات آگئی اور اُن کے دل سے ایمان جاتا رہا۔تو علم النفس کی رُو سے ڈیلیٹیں کرنا سخت مضر ہے اور بعض اوقات سخت نقصان کا موجب ہو جاتا ہے۔یہ ایسے باریک مسائل ہیں جن کو سمجھنے کی ہر مدرس اہلیت نہیں رکھتا۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا۔یہاں ایک ڈیلیٹ ہوئی اور جین کی شکایت مجھ تک بھی پہنچی تھی۔اس میں اس امر یہ بحث تھی کہ ہندوستان کے لئے مخلوط انتخاب چاہیئے یا جدا گانہ۔حالانکہ میں اس کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر چکا ہوں۔اور یہ شور ادبی ہے کہ اس بات کا علم ہونے کے باوجود کہ میں اس امر کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر چکا ہوں پھر اس کو زیر بحث لایا جائے۔جن امور میں خدا تعالے یا اس کے رسول یا اُس کے خلفاء اظہار رائے کر چکے ہوں ان کے متعلق بحث کرنا گستاخی اور بے ادبی میں داخل ہے۔کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ یہ تو محض کھیل ہے لیکن کیا کوئی کھیل