تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 385
وہ بیعت سے قبل بھی ایک عام عقیدت کے آغاز میں اس قدر غیور تھے کہ حضر قدس کے خلاف کچھ مٹن نہ سکتے تھے۔ان ایام میں کثرت سے رکھا نوانے سے آتے اور حضرت اقدس کے اشتہارات اور تصنیفات کو سُنتے اور تصدیق کرتے چونکہ اپنے علاقہ میں وہ ایک با اثر اور زیر معزز رئیس تھے اس لئے کسی کو یہ جرات نہ ہوتی تھی کہ اُن کے سامنے سلسلہ کی مخالفت کرے۔اس مہار جوانی میں باوجود زمیندار ہونے کے میں نے اُن کو منہیات شرعیہ سے ہمیشہ مجتنب پایا۔ان کی طبیعت میں خشونت تھی۔شاید یہ لفظ ثقیل ہو مگر میں نے اس کو واقعات کی صورت میں لکھا ہے لیکن جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ حالت اسلام میں صحیح مقام حاصل کر چکا تھا چوہدری نظام الدین صاحب کی خشونت غیرت دینی کے رنگ میں رنگین ہو گئی۔وہ بہت صاف دل اور صاف گو تھے۔زبیری اور جرات قابل تقلید تھی۔حق کہنے میں وہ کسی کی پروا نہ کرتے تھے۔ان ایام میں باوجودیکہ ابھی انہوں نے بیعت نہ کی تھی مگر حضرت اقدس کی تحریکات چندہ میں حصہ لیتے تھے اور اشتہارات اور کتابوں کی اشاعت اور تبلیغ میں سرگرمی کا عملی اظہار کرتے تھے۔چودھری فتح محمد صاحب کو جب قادیان مدرسہ میں داخل کیا تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ شیخ صاحب میں نے تو فتح محمد کو یہاں اسواسطے داخل کیا ہے کہ ہم زمیندار لوگ ہیں بچے جوان ہو جاتے ہیں تو اپنے کاروبار میں لگا نا ہم کو عزیز ہوتا ہے۔میں نے اس کو یہاں بھیج دیا ہے کہ ہم تو اپنی زمینداری کے دھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں فتح محمد جو ان ہو گر کوئی دین کا کام کرے۔ورنہ ہمارے پاس قصور میں کیا سکول نہیں۔اس سے اُن کی مخلصانہ نیت کا پتہ لگتا ہے۔انہوں نے اپنے دل میں چودھری فتح محمد صاحب کو بچپن میں وقف کر دیا تھا۔اور ان کے صدق نیت اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آخر فتح محمد سلسلہ کا ایک خادم سپاہی بن گیا۔چودھری فتح محمد صاحب کی شادی کی تجویز جب مفتی فضل الرحمن صاحب مرحوم کی صاحبزادی ہاجرہ مرحومہ سے ہوئی تو چودھری صاحب مرحوم قادیان آئے۔اُن کا معمول تھا کہ وہ قادیان آتے تو مجھے ضرور ملنے کے لئے آتے اور تمام ضروری باتیں اپنے معاملات کی بھی کرتے۔وہ