تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 384
۳۷۳ تبلیغ اسلام کے لئے چلے گئے۔اور تیرہ چودہ سال تک باہر رہے۔جب وہ واپس آئے تو ان کی بیوی کے بال سفید ہو چکے تھے۔اور اُن کے بچے جوان ہو چکے تھے۔انہ حضرت حافظ صاحب عابد زاہدہ بزرگ تھے۔تہجد کا خاص طور پر اہتمام فرماتے۔اول درجہ کے مہمان نواز تھے اور نہایت صابر و شاکر تھے سلسلہ کے سب اخبارات خریدتے تھے۔سلیسانہ کی تحریکوں میں حتی الوسع حصہ لیتے تھے۔دمیت کی رقم اور جائیداد کا حصہ زندگی میں ہی ادا فرما دیا تھا یہ ۱۹۳۵ ء میں چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے۔اور اس وقت سے مرض الموت تک فریش رہے۔اس دوران میں اور بعد میں بھی مختلف عوارض کا حملہ آپ پر ہوتا رہا مگر کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لائے۔ہمیشہ اللہ تعالے کا شکر ادا کرتے اور ہر شخص سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات فرماتے۔۸ - حضرت چودھری نظام الدین صاحب والد ماجد حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے ناظر اعلی قادیان ربیعیت ۶۱۹۹۵ دنات ۲۹ ا هم بعمر ۸۵ سال سے آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری پیدائش ر ا ج ۶۱۹۴۲ غدر سے کچھ پہلے ہوئی۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی عظیم شخصیت کا علم پہلے پہل شر میں۔براین احمدیہ سے ہوا جو سید عبدالوحید صاحب ڈپٹی کلکٹر نہر کے ذریعہ انہیں ملی۔اوائل شہر میں آپ فریق مخالف کی شرارت سے قتل کے ایک مقدمہ میں ملوث کر دیئے گئے۔مگر خارا تعالے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کی برکت سے بذریعہ کشف بریت کی قبل از وقت اطلاع دے دی جس کا آپ نے لوگوں میں پہلے ہی اعلان کر دیا۔دشمنوں نے اس کشف پر بہت سہنسی اڑائی گر د اتعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ بڑی ہو گئے۔اس واقعہ کے بعد انہوں نے جون 1992 میں اپنے بیٹے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو پڑھنے کے لئے قادیان بھیج دیا۔جہاں آپ تعلیم الاسلام سکول میں داخل ہو گئے۔حضرت چودھری نظام الدین صاحب کو تبلیغ کا بہت شوق تھا کر کپڑ، لدھینگے نہیں، ادھیکے اونچے لکھنے کے ، در علی پور وغیرہ ضلع لاہور کی جماعتیں آپ ہی کے ذریعہ قائم ہوئیں لیے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اُن کی وفات پر ایک مفصل نوٹ لکھا جس سے اُن کے الفضل ۲۲ ها صفحه ۲ - ۵ مضمون خلصانہ مقام اور مرتبہ فدائیت کا پتہ چلتا ہے۔حضرت عرفانی انگیر نے لکھا :- افاد ۳۳ صفحه ۳ کالم ۲ + ۲ بالفضل مو در شهادت را پر یا هم شهادت همر جیم فضل الرحمن صاحب بلغ نائیجریا ) : ٣ الفصل یکم شهادت ها ۳۲ صفحه ۴ + اکتوبر ۶۱۹۵۵ اپریل ۱۹۴۲ منفجره و مضمون چوهدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے ) ایضا در شهادت ما که ما ب *