تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 386 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 386

۳۷۵ اس طرح پر عمید اخوت و مودت کا ایک قابل تقلید نمونہ پیش کرتے تھے۔غرض میرے پاس آئے اور اس واقعہ کا ذکر کر کے کہنے لگے کہ میں نے تو احمدی ہو کر اپنا ارادہ ختم کر دیا ہے۔اب جو منشاء یہاں کا ہوتا ہے وہی میرا ہوتا ہے۔اس معاملہ میں میری رائے کا دخل ہی نہیں۔اور میں خوش ہوں کہ فتح محمد کے لئے جوئیں نے ارادہ کیا تھا خدا اُسے پورا کر رہا ہے ایسا ہی جب چودھری صاحب کو ولایت بھیجا گیا تو وہ آئے اور مفتی صاحب مرحوم کے مجرد میں ہی مقیم تھے۔فرمایا کہ میری ایسی قسمت کہاں تھی کہ میرا بیٹا دین کی خدمت کے لئے اناڑان جائے۔یہ تو خدا کا محض فضل ہے۔غرض با وجود ایک زمیندار ہونے کے فہم دقیق رکھتے تھے اور سلسلہ کے لئے اُن کے دل میں تقسیم کی قربانی کا جذبہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اور آپ کے الیست ساتھ انہیں خدائیان محبت تھی ہے 9 - حضرت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق قادیان تاریخ بیعت ہوائی ه - وفات اور شہادت را پریل ( حضرت میر صاحب جماعت احمدیہ کے ابتدائی مصنفوں میں سے ایک او ۶۱۹۴۲ کامیاب مصنف تھے اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ صحافت میں بھی ان کو بلند مقام حاصل تھا انہوں نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد دہلی میں ایک باقاعدہ تبلیغی مرکز قائم کر دیا اور اپنی انفرادی کوششوں سے بہت سے اشتہارات ، ٹریکٹ اور رسائے تائیار احمدیت میں شائع کئے۔حضرت اقدس کی وفات کے بعد خلافت اولی میں حبیب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی بار زبانی حد سے بڑھ گئی تو آپ نے 12 ء میں دہلی سے رسالہ احمدی " جاری کیا جس میں مولوی حساب مورو سے کے اعتراضات کے دندان شکن اور قرار واقعی جوابات دیئے جاتے تھے۔اس کے ساتھ ہی آریوں کے اعتراضات کے جوابات کے لئے بھی آپ نے دہار ہی سے ایک ہفتہ وار اخبار الحق جاری کیا۔جو ہنا۔دستان کے نصف درجن سے زائد آریہ اخبارات کا نوٹس لیتا تھا۔اور اُن کے اسلام کے خاران زہریلے اثر کو دور کرتا تھا۔خلافت ثانیہ کے عہار میں آپ نے مسلمہ کے مشہور ہفتہ وار اخبار" فاروق کی بنیاد ڈالی جس کا سب سے پہلا پرچہ ، راکتو بر شاہ کو قادیان دارالامان سے شائع ہوا جو بعض الفضل ۱۵ شهادت هر ۲ ر ه ار اپریل ۱۹۳۳ و صفحه ۰۴ اسلام پر