تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 375
نظام کے ڈر کی وجہ سے اس قسم کے خیالات ابھرتے نہیں۔لیکن تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد اس کی ایک ہی پیدا ہو جاتی ہے۔اور مجھے ہمیشہ ایسی باتوں کو پڑھ کر مزا آتا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ مجھے ہی مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اور شاید اسی لئے فرمایا کہ میں اس کی نگرانی کروں کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو حضرت مولوی صاحب کی وجہ سے سلسلہ میں داخل ہو گئے ہیں ، حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود علیہ سلام عام طور پر مولوی صاحب کہا کرتے تھے) وہ مودی صاحب کی قدر جانتے ہیں ہماری نہیں۔چونکہ مولوی صاحب نے ہماری معیت کر لی ہے اس لئے وہ بھی بیعت میں شامل ہو گئے ہیں۔اس سے زیادہ اُن کا ایمان نہیں بیشک اُن کے دلوں میں ایمان ہے مگر اُن کا ایمان واسطے کا ایمان ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک گردہ ہماری جماعت میں ایسا ہے جس نے یہ دیکھا کہ ایک جماعت بن گئی ہے اور اس میں قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا ہوگیا ہے تو قوم کی خدمت کے لئے وہ اس جماعت میں شامل ہو گیا۔کیونکہ قومی خدمت کے لئے قربانی اور ایثار کرنے دانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ سوائے ہماری جماعت کے اور کہیں نہیں مل سکتے۔ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ انجمنیں بنائیں، مدر سے بنائیں۔دفاتر بنائیں اور دنیوی رنگ میں قوم کی بہبودی کے کام کریں۔ایسے لوگ بیشک ہم کو مانتے ہیں مگر اپنے کاموں کا آلہ کار بنانے کے لئے ہمارے مقام کو مقدم سمجھ کر نہیں مانتے۔مگر ان کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہم کو سچے دل سے مانا وہ ہمیں خدا کا مامور سمجھتے ہیں اور ان کی نگاہ پہلے ہم پر پڑتی ہے اور ہم سے اتر کر پھر کسی اور پر پڑتی ہے اصل مخلص رہی ہیں باقی جس قدر ہیں وہ ابتلاء اور ٹھوکر کھانے کے خطرہ نہیں ہیں۔یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے سامنے بیان کی تھی حالانکہ میری عمر اس وقت بہت چھوٹی تھی۔آپ کا اِس بات کا میرے سامنے بیان کرنا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے ماتحت آپ اس بات کو جانتے تھے کہ لوگوں کی نگرانی کسی زمانہ میں میرے سپرد ہونے والی ہے اور آپ نے اُسی وقت مجھے ہوشیار کر دیا۔چنانچہ ایک ٹکراؤ تو میری خلافت کے شروع ہوتے ہی انجمن دالوں سے ہو گیا اور وہ قادیان سے نکل گئے۔باقی جو غلو کرنے والے ہیں