تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 376 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 376

۳۶۵ وہ بھی ہمیشہ رہتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اُن کا سر کچلتے رہیں کا سنہ اس حضر امیرالمومنین کا لکچر نظام تو دنیا کی عالی تاریخ سے پتہ چلتاہے کہ بی اے کا سال تو ۶۱۹۴۲ دنیا کی سب اقوام کے لئے نہایت درجہ پریشانی کا سال تھا۔جس میں ایک طرف خوفناک مادی جنگ لڑی جارہی تھی اور دوسری طرف سرمایہ داری او اشتمالیت داشتراکیت کے نظام ہائے زندگی آپس میں شدید طور پر متصادم ہو رہے تھے اور دنیا کا معاشرہ بے شمار سماجی معاشی اور اقتصادی مصائب میں گھر چکا تھا اور ضرورت تھی کہ کوئی مرد خدا دنیا کی راہنمائی کرے۔یہ تھے وہ حالات جن میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی اقوام عالمہ کی قیادت کے لئے آگے بڑھے۔اور حضور نے ۲۷ فتح ها (دسمبر سنہ) کو جلسہ سالانہ کے تیسرے دن نظامی نوکی تعمیر پر ایک معرکتہ الآراء وخطاب فرمایا۔جن میں پہلے تو شہارِ حاضر کی ان اہم سیاسی تحریکات ( مثلا جمہوریت کا اشخاصیت د و اشتراکیت و غیره ) پر سیر حاصل روشنی ڈالی جو عام طور پہ غریبوں کے حقوق کی علمبردار قرار دی جاتی ہیں۔اور خصوصاً اشتراکیت کے سات بنیادی نقائص کی نشاندہی کی۔ازاں بعاد غریبانہ کی حالت سدھارنے کے لئے یہودیت، عیسائیت ، بہانہ ازم کی پیش کردہ تدابیر کا جائزہ لیا اور آخر میں اسلام کی بے نظیر تعلیم بیان کر کے اسلامی نقطہ نگاہ کے مطابق دنیا کے نئے نظام کا نقشہ ایسے دلکش اور موثر پیرائے میں پیش کیا کہ سننے والے عش عش کر اُٹھے۔رانی ضمن میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن مجید کی عظیم الشان تعلیم کو دنیا میں قائم کرنے کے نئے خدا تعالے کے مامور کے ہاتھوں دسمبر ہ میں نظام نو کی بنیاد قادیان میں رکھی گئی جس کو مضبوط کرنے اور قریب تر لانے کے لئے اللہ تعالے کی طرف سے ۱۹۳۳ء میں تحریک جدید جیسی عظیم الشان تحریک کا القاء فرمایا گیا۔اس عظیم الشان لیکچر کے آخر میں حضور نے پر شوکت الفاظ میں فرمایا : غرض تحریک جدید گو وصیت کے بعد آئی ہے مگر اس کے لئے پیشرو کی حیثیت میں ہے۔گویاده میسج کے لئے ایک ایلیاہ نبی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا ظہور مسیح موعود کے عید والے ظہور کے لئے بطور ا رہاص کے ہے۔ہر شخص جو تحریک جارید میں حصہ لیتا ہے بیت کے نظام کو وسیع کرنے میں مدد دیتا ہے۔اور ہر شخص جو نظام وقیمت کو وسیع کرتا ہے وہ ن الفضل ارتح هذا لا ۱۰ دسمبر ۱۹۴۲) صفحه ۳۰۲