تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 374 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 374

ہو رسول" کا لفظ نہ صرف رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے لیئے اور تخت گاہ رسول کا نقظ صرفت مدینہ منورہ کے لئے مخصوص ہے۔اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مضمون پڑھتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اس روز جو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اس میں اس مضمون کو فتنہ کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پوری قوت و طاقت کے ساتھ آواز بلند کی اور اس ضمن میں احمدیوں کو نصیحت فرمائی کہ جماعت میں کوئی ایسی تحریک نہ اُٹھنے دیں جن میں حضرت مسیح موعود اور حضور کے خلفاء کے متعلق غلو سے کام لیا گیا ہو۔چنانچہ حضور نے فرمایا : یکی جماعت کے تمام مصنفین وغیرہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس قسم کے الفاظ کا استعمال کرنا جائز نہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم قادیان کے متعلق تخت گاہ رسول کے الفاظ استعمال است گرد میں یہ کہتا ہوں کہ جب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ دوسرے شہروں کا ذکر آجائے تو اس کے مقابلہ میں قادیان کو تخت گاہ رسول کہا جاسکتا ہے۔مگر جب شہروں کا عام ذکرہ جن میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی شامل ہوں تب قادیان کے متعلق تخت گاہ رسول کے الفاظ کا استعمال درست نہیں۔کیونکہ اس صورت میں تخت گاہ رسول فتر مدینہ منورہ ہوگا۔جیسے نبیت اللہ " کا لفظ ہم ہر سجد کے لئے بول سکتے ہیں مگر اس صورت میں جب کوئی اشارہ اور قرینہ موجود ہو۔لیکن جب بغیر قرینہ کے بیت اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو اس سے مراد صرف بیت اللہ کی مسجد ہوگی احمد کوئی مسجد نہیں ہوگی۔نہیں اس بارے میں ہمارے لئے احتیاط بہت ضروری ہے۔ہمارا کام صرف یہ نہیں کہ ہم پیشامیوں کا مقابلہ کریں بلکہ ہمارا کام یہ بھی ہے کہ ایسی تحریکیں بھی جماعت میں نہ اُٹھنے دیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آپ کے خلفاء کے متعلق غلو سے کام لیا گیا ہو۔میں نے دیکھا ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بعض لوگ ایسے تھے جنہوں نے آہستہ آہستہ آپ کو ایک مستقل درجہ دینا شروع کر دیا تھا۔اور اب بھی اگر سلسلہ کے اخبارات کو گہرے غور سے پڑھا جائے جس طرح میں پڑھا کرتا ہوں تو تھوڑے تھوڑے مہینوں کے بعد اس کی پیک سی پیدا ہو جاتی ہے اور صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ بعض لوگ حضرت خلیفہ اول کو مستقل طور پر کوئی الگ درجہ دینا چاہتے ہیں۔میرے ڈر کی وجہ سے یا سلسلہ *