تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 373
۳۹۲ N بیشک ریڈیو کے ذریعہ بعض اچھی چیزیں بھی نشر کی جاتی ہیں مگر ناچ اور گانا ایسی گناہ ہیں چیزیں این جنہوں نے ہر گھر کو ڈوم اور میرانی بنا دیا ہے۔اور ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور باقی دنیا کو اسکی ضر سے بچائے اور اس کا صرفت مفید پہلو قائم رکھے اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فراتا ہے۔لا يعركُم مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَ يَتُو المائده ال جب تم ہدایت پر ہو تو تمہیں دوسرے کی گمراہی کی پروا بھی نہیں کرنی چاہیئے۔اگر تم صحیح راستہ پر چل رہے ہو اور دوسرا شخص تمہارے ساتھ یہ شرط کرنا چاہتا ہے کہ تم صحیح راستند کو چھوڑ کر غلط راستے کو اختیار کر لو تو فرماتا ہے ایسے شخص کو بے شک تم گمراہ ہو نے دو مگر صحیح راستے کو ترک نہ کرو۔تو ان چیزوں کو دنیا سے تم نے مٹانا ہے اور تمہارا فرض ہے کہ خدا تعالے تمہیں جب حکومت اور طاقت عطا فرمائے تو جس قدر ڈوم اور میرائی میں ان سب کو رخصت گردو اور کہو کہ جا کر حلال کمائی کماؤ۔ہاں جغرافیہ یا تاریخ یا مذہب یا اخلاق کا جو حصہ ہے اس کو بے شک رہنے دو۔اور اعلان کر دو جس کی مرضی ہے ریڈیو سنے اور جس کی مرضی شنے۔اس وقت ریڈیو والوں نے ایک ہی وقت میں دو نہریں جاری کی ہوئی ہیں۔ایک نہر میٹھے پانی کی ہے اور دوسری نہر کڑوے پانی کی ہے۔اللہ تعالے قرآن کریم میں بھی دو شہروں کا ذکر کرتا ہے۔اور فرماتا ہے ایک نہر میں تو میٹھا پانی ہے مگر دوسری نہر میں کڑوا پانی ہے۔تیں جب بھی ریڈیو سنتا ہوں تو مجھے پر یہی اثر ہوتا ہے کہ یہی دو نہریں ہیں جن کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔اس سے ایک طرف میٹھا پانی جاری ہوتا ہے اور دوسری طرف کڑوا پانی جاری ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ کڑی نالی کے ہوتے ہوئے میٹھا پانی غالب آجائے۔بیٹھا پانی اُسی صورت میں غالب آ سکتا ہے جب کڑوے پانی کی نالی کو بالکل بند کر دیا جائے یا ملہ کیلئے سمو را شروع ما در افتح هاله در بیری ده کا واقعہ سیم هم سلسل احمد کے مصنفوں اور نا شروی اہم فرمان ہے کہ ایک اور نوجوان نے املا در ایمانی احمدی فتح ) میں تخت گاہ رسول میں اہل اللہ کا عظیم الشان اجتماع" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا چونکہ قریہ کے بغیر " له الفضل در فتح هاته (۱۲ دسمبر ۱۹۳۲ صفحه ۰۹۰۸ و