تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 367
۳۵۶ اور ہم زمینوں پر سے ہوتے ہوئے اوپر کی منزل پر گئے۔محرابوں اور دروں پر چلمن پڑی ہوئی تھی۔اور برآمدہ میں مینڈھے اور گریسیاں رکھی ہوئی تھیں۔حضرت محمود ایدہ اللہ ان میں سے ایک کرسی پر رونق افروز تھے۔جیسے ہی ہم آخری زینے طے کرتے ہوئے بالائی منزل پر پہنچے۔آپ ہمارے استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے اور از راہ محبت و خادم نوازی خندہ پیشانی کے از ساتھ آگے بڑھتے چلے آئے۔ہم نے بھی بڑھ کر دلی جذبات کے ساتھ مصافحہ کیا۔اللہ الہ ! کتنا کرم تھا ، کیسی محبت تھی۔کتنی سادگی امیرالمومنین خلیفہ اسیے اپنے خادموں کےساتھ مساوات، اخوت و محبت کا برتاؤ اس خطر می اندازمیں کر رہے تھے کہ میری تھی اک کا فور ہوگئی۔اور یہیں اب اس قابل تھا کہ اپنے دل کی گہر ہیں اور ذہن کے عقاد سے عقدہ کشا کے سامنے پیش کر دوں میں حضرت امیر المومنین سے جلسہ سالانہ کے دنوں میں ملتا رہا تھا۔مگران موقعوں پر بہار کی جماعت کے ساتھ باریانی ہوا کرتی تھی۔ہمارا امام جماعتوں کے ساتھ فرش پر بیٹھ کر انہیں شریف ملاقات خطا کرتا تھا۔وہ دلکش مسکراتا ہوا چہرہ سب کے لئے ابدی مسرت کا سامان ہوتا تھا۔اجتماعی ملاقاتوں کے علاوہ مجھے اس سے پہلے انفرادی طلاقات کا موقعہ نہیں ملا تھا اور انفرادی ملاقات بھی اس رنگ کی کہ حضرت امیر المومنین سے ایک نہایت ہی اہم موضوع کے متعلق شرح صدر کے لئے گفتگو کرنے کی جرات کرنی لیکن حضرت امام نے ایسی خوش گوار فضا پیدا کر دی کہ میری بہت کے بڑھ گئی اور میرے محبت آمیز اعتماد کو اتنی تقویت پہنچی کہ میں نے حضرت امیر المومنین سے اشتمالی نظام کے متعلق باتیں شروع کیں۔میں نے مختصر تمہید کے بعد اپنی انجمنیں حضرت امیرالمومنین کے سامنے پیش کیں اور ستی چاہتی حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنی دقتوں کی وضاحت بھی نہیں کی تھی کہ مصلح موعود نے اپنی غیر معمولی خداداد بصیرت کی وجہ سے سب کچھ سمجھ لیا اور ظاہری و باطنی علوم کی مہارت کے سبب اپنی تقریر اس رنگ میں شروع کی اور اس دل نشین انداز میں عقدہ کشائی فرماتے رہے کہ نہ صرف میرے ذہن در باغ کے پردے اُٹھتے چلے گئے بلکہ دل کو بھی نہایت تسکین و طمانیت حاصل ہوئی۔آدھے گھنٹہ حضور مستانست ومحبت سے باتیں کرتے رہے اور ہم میں اور پروفیسر کی احمد ما) بیٹھے سنتے رہے۔مجھے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ حضور میرے دل و دماغ سے مرکز می اور