تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 366 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 366

۳۵۵ دلچسپی لی اور میرے سفیر قادیاں اور حضرت ام ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے ہدایت جوئی کے ارادہ کو بہت پسند کیا۔اس وقت تک اسلام کا اقتصادی نظام تفصیلات کے ساتھ جماعت کے سامنے نہیں آیا تھا۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں خود حضرت امام ایدہ اللہ تعالی نے اس مسئلہ کو چھیڑا تھا اور اس پر نظر ڈالی تھی لیک حلقہ جماعت میں عالمی نظام ہائے معاشیات کی روشنی میں اس مسئلے پر بحث : نظر نہیں ہوئی تھی۔احمد یہ علم الکلام نے بہت سے مسائل کے باپ یں اغیار کے مقابلہ می نتیں حاصل کی تھیں مگر اس میدان میں ابھی کھل کے لڑائی نہیں لڑی گئی تھی متکلمین احمد نیست، دانشوران جماعت ، اس کے ذہین طبقے اور جمہور احمدی ہنوز اسلام کی معاشیاتی تقسیمات کا مقابلہ موازنہ دوسرے نظاموں کے اصول سے اچھی طرح نہیں کر پائے تھے۔دوسری طرف ملک کے تعلیم یافتہ طبقے میں کسان اور مزدوروں کے درمیان معاشی مسلئے چھڑتے ہوے تھے۔اور دوسری عالمگیر جنگ نے عوام الناس اور دانشوروں کے احساسات و جذبات اور ذہین و اور اگا کو اس طرف شدت سے منعطف کر دیا تھا۔میں نے اس سے پہلے بھی بعض علمائے جماعت سے اپنی تشفی کرنا چاہی تھی مگر مجھے تسلی نہیں کی تھی۔قادیان پہنچ کر بھی میں نے بعض علماء سے لاتماتیں کیں مگر مجھے شرح صدر نہ ہوا میں حضرت امیر المومنین کے سامنے جاکر تفصیلی سوال کرنے سے جھجک رہا تھا۔دل میں این جستجو بھی تھی اور رعب خلات بھی عجیب کشاکش کا عالم تھا۔میں نے اپنی الجھن کا تذکرہ حضرت سید سخت و استاد صاحب ،جناب ملک غلام فرید صاحب اور مولوی علی احمد صاحب پروفیسر سے کیا۔ان بزرگوں نے مجھے اس بات پر مجبور کر دیا کہ میں حضرت امام سے ضرور مذکورہ مسئلہ کے بارہ میں جماعت کی فلاح کی خاطر رہبری حاصل کروں۔اس کے باوجود محمود کے سامنے جا کہ سرگرم سوال ہونے کی اس ایانہ کو جبرائت نہیں ہو رہی تھی۔میں نے پروفیسر علی احمد صاحب سے درخواست کی کہ وہ بھی میرے ساتھ دربار خلافت میں حاضر ہوں اور مجھے سہارا دیں۔آخرش ایک روز میں نے باریاب ہونے کی اجازت حاصل کی اور پروفیسر علی احمد صاحب کی معیت میں حضرت امیر المومنین سے ملنے قصر خلافت میں حاضر ہوا۔غالبا ان دونوں کرم بابا میم صاحب درد پرائیویٹ سیکٹری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے ہم لوگوں کی باری آئی۔