تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 368
۳۵۷ بنیادی سوالات پچھنتے جاتے ہیں اور ان کے جوابات تشفی بخش اور دلکشا طور پر دیتے جاتے ہیں۔دعائے مسیح اور وعدہ خدائے ذوالجلال کے مطابق مصلح موعود بننے والے فوق فطرت طور پر اُس ذہین وفی شخص نے اشتمالیت اور اسلام کا اصولی مقابلہ موازنہ تاریخ عالم کی پیشینی اور علم النفس کی شہادتوں کے ساتھے کیا۔حضرت محمود نے اشتمالیت کی دو خصوصیات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اشتمالیت جبر کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کرنا چاہتی ہے۔وہ جبر نے اہل سرمایہ کی دولت چھین کر سماج پر خرچ کرتی ہے۔اور اپنے نظام کے قیام کے لئے بھی جبر اور شہر کو عملاً مرکزی اور بنیادی حیثیت دیتی ہے آپ نے فرما یا جمہ یہ طریقہ شدید رد عمل پیدا کرتا ہے۔اور اُس کے ظاہرا اچھے نتائج دیر پا نہیں ہوتے۔آپ نے امریکہ میں جبر سے نشراب بندی کی اسکیم کی رسوائے عالم نا کامیابی کی مثال دی اور پھر اسلامی ممانعت خمر کی کا میابی کو پیش کیا۔اسلام نے پہلے نفسی انقلاب اور اخلاقی اصلاح کی بنیادیں مضبوط کریں۔پھر شراب ممنوع قرار دی۔تو یہ علت ایسی میٹی کہ تاریخ عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اسی طرح اسلام دوست یا ذرائع پیداوار پر با امیر قبضہ کرنا پسند نہیں کرتا۔وہ سرمایہ داری کو جبر و قہر سے مٹانے کے اصول پیش نہیں کرتا بلکہ وہ ایسی تعلیمات دیتا ہے اور معاشرہ کی ایسی روحانی اور اخلاقی اصلاح کرتا ہے کہ طوعی طور پر رفتند رفته مگر یقینا وہ ساری معاشی برکتیں حاصل ہو جاتی ہیں جن کے حصول کا دعوی اش می ایسے کرتی ہے اور اسلامی تعلیم سے انفرادی تخلیقی روح اور قوت مسابقت فنا بھی نہیں ہوتی اور طومی نیکی کی وجہ سے نیکی کی صلاحیت ، سماجی احساس اور انسانی درد نداری کی میں افراد معاشرہ میں بڑھتی جاتی ہے۔برخلاف اسلام کے امیرالمومنین نے واضح کیا کہ اشتمالیت نا دانستہ دماغی قوتوں کو تاریخی طور پر کھلنے کا سامان کرتی ہے۔اول تو اس طرح کہ اشتمالیت بدنی محنت کی قدر وقیمت سب کچھ بتاتی ہے اور دماغی کام کی قدر و منزلت کو دوہ مقام نہیں دیتی جو اس کا حق ہے۔اور قوم اس طرح کہ برادر میکانکی اور کہانی کے ذریعہ مدرج مسابقت، دما فی ایچ ، قوت ایجاد و اقدام ، فیصلہ اور ارادہ کی طاقت کو مٹاتی ہے۔زیر پا طور پر اس اشتمالی نظام کے بڑے نتائج ظاہر ہونے لگتے ہیں اور عاجلانہ