تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 365 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 365

۳۵۲ یے اشاعت پذیر ہوئے تو ان کی بسیرت میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔اس اہم ملاقات کی تفصیل خود پر وفیسر صاحب موصوف کے قلم سے تھی جئی۔آپ حریر فرماتے ہیں۔توبر 9ء کی بات ہے میں ٹینہ سے قادیان کے لئے روانہ ہوا۔علی گڑنے پہلی اور لاہور ہوتا ہوا دار الامان پہنچا اور مہمان خانہ میں ٹھہرا میرے ذہن و دماغ میں کئی اہم سوالات اضطراب پیدا کر رہے تھے۔۔۔میرے ذہن میں جو عقد سے تھے اور دل میں جو اضطراب تھا وہ اقتصادی مسائل کے متعلق تھا میں نے گذشتہ سالوں میں معاشی صنعتی اور سماجی تنظیم کے متعلق اشتراکی ، اشتمالی ، فسطائی اور سرمایہ دارانہ نظریوں کا مطالعہ کیا تھا۔۱۹۴۷ میں فسطائیت نے دنیا کو آگ اور خون کی نذر کر رکھا تھا۔سرمایہ دارانہ جمہوریتیں اور اشتمالی جمہور میشید روس جیسے ریاستی معاشیاتی آمریت بھی کہہ سکتے ہیں، فسطائیت کا مقابلہ کر رہی تھیں۔شریخ فوج کی جرات اور پامردی نے ذہنوں اور تخیل کو گہرے طور پر متاثر کیا تھا میں روس کی اشتمالی تنظیم سے بہت متاثر ہو رہا تھا اور یہ محسوس کرنے لگا تھا کہ ماہ میں دشمنی سے قطع نظر ایش تمامیت کی معاشی اور صنعتی تنظیم کا پروگرام فلاکت زدہ انسانیت کے درد کا درماں ہے۔سرمایہ داری تو بہت ہی رسوا طور پر نا کا میاب ثابت ہو چکی تھی۔فسطائیت درد کا درماں نہیں بلکہ تجاریاد درد تھی۔سرمایہ داری اور فسطائیت دونوں انسانیت آزار اور محبت گش انتہا پسندانہ وطنیت کے شعلوں کو بھڑکا رہی تھیں مگر اشتمالیت بین القومیت کا خیال پیش کرتی تھی۔سب کچھ تھا مگر اشتمالیت ہے دین خدا دشمن اور دہریت پسند تھی۔اور فسطائیت بھی بے دین ، خدا نا آشنا اور مادیت نہاد تھی اور سرمایہ داران جمہوریت بھی منافقانہ بے یقین سطحی ، کاروباری مذہبیت کا ڈھونگ رچائے ہوئے تھی اور میں اسلامی اقتصادیات کی واضح شکل نہیں دیکھ سکا تھا اور اس کی روح کو بھی نہیں سمجھے پایا تھا۔لہذا میں متردد اور متلاشی تھا۔اور اس آزار جستجو کے درمان آفرین کے پاس پہنچنا چاہتا تھا۔یں لاہور احمد یہ ہوسٹل میں چند دن ٹھہرا۔وہاں خاندان مسیح موعود علیہ سلام کے بعض نوجوانوں سے ملنے کا موقعہ ملا۔اُن سے میں نے اپنا عندیہ ظاہر کیا۔سمجھوں نے اس موضوع سے