تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 346 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 346

۳۳۵ از عنوان الله علہیم اجمعین ) کی طرح کفر کا ہر تیر پوری جانثاری اور جانبازی کے ساتھ اپنے کھلے سینوں پر تھام نہیں، اور ناموس محمد صلی الہ علیہ سلم و عظمت اسلام کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کر دیں اور اپنے خون سے اسلام کے مرجھائے ہوئے باغ کی آبیاری کرنا اپنی سب سے بڑی سعادت اور سب سے بڑا اعزاز سمجھیں۔اس نوع کی اغراض کے پیش نظر حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جماعت کے وجوان کو بار بار در نهایت مو رنگ میں توجہ دلائی کہ وہ فوج میں بکثرت بھرتی ہوں اور اس جنگ کو ظا پہنچ کی تقدیر کا ایک مظاہرہ سمجھتے ہوئے اسے نعمت غیر متر رتبہ مجھیں کہ اللہ ہی نے نے اسے جاری کر کے ہمارے لئے یہ موقعہ بھی پیدا کر دیا ہے کہ اگر چاہیں تو فنون جنگ سیکھ سکتے ہیں اور جرات و بہادری پیدا کرنے کے سامان کر سکتے ہیں۔بیٹے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس سلسالہ میں جو خطبات ارشاد فرمائے وہ اخبار الفضل (قادیان) میں شائع شدہ ہیں۔اس جگہ بطور نمونہ حضرت امیر المومنین کے ایک خطبہ جمعہ د فرموده ۳ وفاه ، کا ایک اقتباس درج ذیل کیا جاتا ہے۔حضور نے احمدی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا :- کوئی جماعت زندہ نہیں رہ سکتی جب تک اس کے افراد فوجی فنون کے ماہر نہ ہوں۔قوموں کے مرنے کی علامت یہی ہوا کرتی ہے کہ موت کا خوف اُن کے لوں میں بڑھ جاتا ہے اور تولوں کی زندگی کی علامت یہ ہوتی ہے کہ موت کا خوف اُن کے دلوں سے جاتا رہے۔جو قومیں موت کا خون اپنے دلوں میں بڑھا لیتی ہیں وہ کبھی فاتح نہیں ہو سکتیں اور جن قوموں کے دلوں میں سے موت کا خوف میٹ جاتا ہے انہیں کوئی مفتوح نہیں کر سکتا۔۔۔۔بھابہ کو دیکھ لو۔انہیں مارنے کیلئے شہری نے کتنی کوششیں کیں ، تقریباً تیس چائیں جنگیں ہوئیں مگر سوائے ایک درجنگوں کے جن میں چند مسلمان تید ہو گئے کبھی سلمان تیار نہ ہوئے ورنہ کا فر تو بیسیوں کی تعداد میں تیار ہوتے تھے مگر مسلمان ایک بھی قید نہیں ہوتا تھا۔اور ان کے قید نہ ہونے کے معنے یہی تھے کہ وہ اتنا لڑتے تھے کہ یا تو مارے جاتے تھے یا فتح حاصل کر لیتے تھے۔گویا موت سے نڈر رہنے کی وجہ سے وہ قیدی نہیں بنتے تھے۔اور یہی چیز اُن کے غلبہ کا موجب بن گئی۔مگر کا فر ہمیشہ تیاری بننے کو ترجیح دیتے اور ام الفضل ، ارد قاهر ۳ ( روی ۱۹۳۲ صفحه ۵ ( خطبه جمعه فرموده از جوانی و ) ، ارد فاهمه جویایی ۶