تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 347 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 347

PPY جب بھی دیکھتے کہ اُن کا پہلو لڑائی میں کمزور ہو رہا ہے تو وہ بہت چھوڑ دیتے اور قیدی بن جاتے۔راند راستہ یہی چیز ان کی تباہی کا موجب ہوگئی۔کیونکہ کچھ تو تیار ہونے کی حالت میں ہی مسلمان ہو جاتے اور کچھ مسلمانوں سے ایسے مرعوب ہو جاتے کہ اُن کا مقابلہ کرنے کی روح کھو بیٹھتے۔پس کا فرقیدی یا تو مسلمان ہو جاتے تھے یا آجکل کی اصطلاح کے مطابق وہ مسلمانوں کا تفتیر کالم مبین جایا کرتے تھے۔اور اپنی قوم کو ڈرایا کرتے تھے کہ دیکھو سلمانوں کا مقابلہ نہ کرنا وہ بڑے سخت لوگ ہیں۔بالآخر اس کا دہی نتیجہ نکلا جو نکلنا چاہیئے تھا کہ مسلمان کامیاب ہو گئے اور آثار نا کام ہو گئے۔ہماری جماعت کو بھی یادرکھنا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے مطابق ایک زمانہ آنے والا ہے جب ہماری جماعت جو اسوقت سب سے زیادہ کمزور اور دنیا کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی ہے دنیا کی فاتح اور حکمران ہوگی۔اور دنیا کی سب قومیں، دنیا کی سب حکومتیں اور دنیا کی سب سلطنتیں اس کی تابع اور فرمانبردار ہونگی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے فرمایا ہے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہماری جماعت ساری دنیا میں پھیل جائیگی۔اور دوسری قومیں اُس کے مقابلہ میں ایسی ہی رہ جائیں گی جیسے چوڑے اور چہار ہوتے ہیں۔پیس جب تک ہماری جماعت کے افراد کے اندر جرات اور بہادری پیدا نہ ہو اور جب تک وہ فنون جنگ سے آشنا نہ ہوں وہ ایسے زمانہ میں کس طرح کام آسکتے ہیں۔حکومت ہمارے پاس نہیں کہ اسکے زار سے ہم انی جہاد کے مردہ کو ابھی سے یہ ٹرینگ دے سکیں مصرف یہی طریق ہے کہ مندہ تعالی نے نوجی ٹریننگ حاصل کرنے کا جو ذریعہ ہماری جماعت کے لئے نکالا ہے اُس سے ہماری جماعت کے دوست زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔فوج میں داخل ہونے سے صرف ایک چیز کا خون ہو سکتا ہے ارمدہ موت ہے۔گر جیسا کہ میں نے بنایا ہے موت ایک ایسی چیز ہے جو گھر پر بھی آجاتی ہے ایسے ایسے طریق پر آتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ایک شخص رات کو اچھا بھلا ہوتا ہے مگر اچانک پچھلی رات اُسے مہیضہ ہوتا ہے اور وہ صبح ہونے سے پہلے پہلے فوت ہو جاتا ہے۔یا چھت گرتا ہے اور وہ اُس کے نیچے دب کر ہلاک ہو جاتا ہے۔یا پاؤں پھسل جاتا ہے اور اسکی ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی ہے۔اور ایسے عیسیوں واقعات روزانہ ہوتے رہتے ہیں۔پس موسی سے ڈڑنا جہالت کی بات ہے۔میں تو سمجھتا ہوں ہاری بات چونکہ فوجی فنون سے نا آشنا اسلئے آئے ہے زیادہ