تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 337
۳۲۷ آپ نے اُن لوگوں کے لئے دعا فرمائی اور اندر تشریف لے گئے۔اس کے بعد باقی قبائل نے بھی مسلح ہو کہ پہرہ دینا شروع کر دیا۔ایک دفعہ مدینہ میں کچھ شور ہوا اور خیال تھا کہ شاید رومی حملہ کرینگے۔اس سے مسلمان ہتھیار لے کر باہر کی طرف بھاگے۔اگر چند صحابی دوڑ کر مسجد بوتی میں جمع ہو گئے۔لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے جملہ کا خوف تو باہر سے تھا۔آپ لوگ مسجدمیں کیوں آ بیٹھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں تو یہی جگہ حفاظت کئے جانے کے قابل نظر آتی ہے۔اس لئے یہیں آگئے۔یہ قربانیاں کرنے والے جانتے تھے کہ اللہ تعالے نے عرش سے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہوا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالے تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا مگر باوجود اس وعدہ کے جو قربانیاں انہوں نے آپؐ کی حفاظت کے لئے کیس کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ اُن کا ایمان کمزور تھا اور وہ خدا تعالیٰ کو ایسیں وعدہ کے پورا کرنے پر قادر نہ سمجھتے تھے ؟ یا کیا وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالے نے ایسا کوئی وعدہ نہیں فرمایا بلکہ خوذ باللہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے بنالیا ہے ؟ ان کی قربانیاں اور ان کا اخلاص دونوں بتاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی اُن کے وہم یا خیال میں نہ تھی۔اُن کو یقین تھا کہ اللہ تعالی عرش سے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ وہ آپ کو بچانے کی طاقت رکھتا ہے اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سامان مہیا کر سکتا ہے مگر اُن کی تمنا اُن کی آرزو اور اُن کی خواہش یہ تھی کہ اللہ تعالے محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچانے کے لئے جو ہتھیار اپنے ہاتھ میں لے وہ ہم ہوں۔انہیں خدا تعالے کے وعدے پر شک نہ تھا۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زبان پر شک نہ تھا بلکہ حرص تھی کہ اس وعدہ کو پورا کرنے کا جو ذریعہ اللہ تعالے اختیار کرے وہ ہم ہوں۔وہ چاہتے تھے کہ کاش وہ ذریعہ جو اللہ تعالے نے آپ کو بچانے کا اختیار کرنا ہے وہ ہم بن جائیں اور وہ بن گئے۔اور انہوں نے نواز در سال تک اپنی جانوں اور عزیز ترین رشتہ داروں کی جانوں کو قربان کرکے اپنے آپ کو خدا تعالٰی کا ہتھیار ثابت کر دیا۔وہ مہاجر اور وہ انصار اس وعدہ کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئے جنہوتی محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کے آگے اور پیچھے ہو کر ہر موقعہ پر جنگ کی۔اُن کی اول خواہش اور تمنا بھی