تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 336
۳۲۶ حضور نے خطبہ کے دوران مقامات مقدسہ کی حفاظت کے خدائی وعدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان کی حفاظت فرمائے گا “۔لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کو اُن کی عملی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔اور فرمایا :- یہ ہمارا یقین ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے نہیں چھڑا سکتا۔جس طرح مکہ کے متعلق خاندانی کا وعدہ تھا کہ وہ اسکی حفاظت کریگا جس طرح اسلام کی حفاظت کے قا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا و رسول کریم صل اللہ علی المکی حفاظت کا بھی وعدہ اُس نے کیا ہوا تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :۔واللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔(المائده ) گر با وجود اس وعدہ کے ، ایسے ہی مقدس اور یقینی وعدہ کے جیسا کہ مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کی حفاظت کے متعلق ہے پھر بھی صحابہ کر امر اس وعدہ پر کفایت کر کے بے فکر نہیں ہو گئے تھے اور انہوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا تعالے خود آپ کو دشمنوں سے بچائیگا ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔بلکہ مدینہ میں آپ کے داخلہ سے لیکر آپ کی وفات تک برابردہ آپ کے گھر کا پہرہ دیتے رہے۔مدینہ کے لوگوں یعنی انصار پر اللہ تعالی بڑی بڑی برکتیں نازل کرے وہ بڑی ہی سمجھ دار اور قربانی کرنے والی قوم تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میںآئے تو انہوں نے فوراً اس بات کا فیصلہ کیا کہ آپ آپ کی ذات کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔اور ہر رات الگ الگ گروہ آپ کے مکان پر مہرہ کے لئے آتا تھا۔پہلے تو انصار بغیر ہتھیاروں کے پہرہ پر کے لئے آتے تھے۔انہوں نے یہ خیال کیا کہ مدینہ اسلامی شہر ہے یہاں خطرہ کی کوئی بات نہیں ہر قبیلہ باری باری پہرہ کے لئے اپنے آدمی بھیجتا تھا مگر وہ بغیر تھیاروں کے ہوتے تھے۔ایک رات رسول کریم صلے اللّہ علیہ وسلم اپنے گھرمیں تھے کہ باہر آپ نے تلواروں اور نیزوں کی جھنکا۔سنی۔آپ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ انصار کا ایک گروہ سرسے پاؤں تک مسلح آپ کے مکان کے گرد پہرہ کے لئے کھڑا ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا بات ہے تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ لوگ تو بغیر ہتھیاروں کے مہرہ کے لئے آیا کرتے تھے مگر ہمارے قبیلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مہرہ کے انتظام کے معنے یہ ہیں کہ خطرہ کا احتمال ہے۔اور جب خطرہ ہو سکتا ہے تو اُسے روکنے کیلئے ہتھیار بھی ضرور ہونے چاہئیں۔اس لئے ہم مسلتے ہو کہ پہرہ کیلئے آئے ہیں۔