تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 335
۳۲۵ بندی اور مسلم وغیرہ احادیث کی جو کہا میں پڑھاتے ہیں وہ مصر کی چھپی ہوئی ہی ہیں۔اسلام کی ناور کتابیں مصرمیں ہی چھپتی ہیں اور مصری قوم اسلام کے لئے بغیر کام کرتی چلی آئی ہے۔اس قوم نے اپنی زبان کو بھلا کر عربی زبان کو اپنا لیا۔اپنی نسل کو فراموشن کر کے یہ عربوں کا حصہ بن گئی۔اور آج دونوں قوموں میں کوئی فرق نہیں۔مصر میں عربی زبان عربی تمدن اور عربی طریق رائج ہیں۔اور محمد عربی صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذہب رائج ہے۔پس مصر کی تکلیف اور تباہی پر سلمان کے لئے دُکھ کا موجب ہونی چاہیئے خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو۔اور خواہ مذہبی طور پر اسے مصریوں سے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں۔پھر مصر ساتھ ہی وہ مقدس سرزمین شروع ہو جاتی ہے جس کا ذرہ ذرہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے نہر سویز کے ادھر آتے ہی آجکل کے سفر کے سامانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چند روز کی نشست کے فاصلہ پر ہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ہمارے آقا کا مبارک وجود لیٹا ہے جس کی گلیوں میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پائے مبارک پڑھا کرتے تھے جس کے مقبروں میں آپ کے والا د شیدا خدا تعالے کے فضل کے نیچے میٹھی نیند سو رہے ہیں اس دن کی انتظار میں کہ جب صور پھونکا جائے گا وہ لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر مو جائینگے دو اڑھائی سوئیل کے فاصلہ پر ہی وہ وادی ہے جس میں دو گھر ہے جسے ہم خدا کا گھر کہتے ہیں اور جس کی طرف دن میں کم سے کم پانچ بار منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں اور جس کی زیاد اور حج کے لئے جاتے ہیں جو دین کے ستونوں میں سے ایک بڑا ستون ہے۔یہ نفس مقام صرف چند سومیل کے فاصلہ پر ہے اور آجکل موٹروں اور ٹینکوں کی رفتار کے لحاظ سے چار پانچ دن کی مسافت سے زیادہ فاصلہ پر نہیں۔اور اُن کی حفاظت کا کوئی مسلمان نہیں وہاں جو حکومت ہے اُس کے پاس نہ ٹھیک ہیں ، نہ ہوائی جہانہ اور نہ ہی حفاظت کا کوئی اور سامان کھلے دروازوں اسلام کا خزانہ پڑا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ دیواریں بھی نہیں ہیں۔اور جوں جوں دشمن ان مقامات کے قریب پہنچتا ہے ایک مسلمان کا دل لرز جاتا ہے ا سنہ الفضل ۳ رماه ۳۳۱ صفحه ۳۰۲ جولائی ۱۹۴۳ و