تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 334
۳۲۴ یہ ہے ایمان کی کیفیت۔جو شخص یہ کیفیت اپنے دل میں محسوس نہیں کرتا اس کا یہ دعوی کہ اس کا ایمان پکا ہے ہم ہر گزمانے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے ؟ فصل سوم دوسری جنگ عظیم کے دوران وسطہ اس میں محمدی وہ ا ا ا اد کیا کی ۶۱۹۴۲ طاقتوں کا دباؤ مشرق وسطی میں زیادہ بڑھ گیا اور جرمن تو میں جنرال رویل کی سرکردگی میں اور احسان (جون) کو بروقت کی قلعہ بندیوں پر حملہ کر کے برطانوی افواج کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہو گئیں جس کے بعد اُن کی پیشقدمی پہلے سے زیادہ تیز ہو گئی۔اور یکم و فار جولائی تک مصر کی حدود کے اندر گھس کر العالمین کے مقام تک پہنچ گئیں جو اسکندریہ سے تھوڑی ور مغرب کی جانب برطانی مدافعت کی آخری چوکی تھی جس سے مصر براہ راست جنگ کی لپیٹ میں آگیا اور مشرق وسطی کے دوسرے اسلامی ممالک خصوصاً حجاز کی ارض مقدس پر محوری طاقتوں کے حملہ کا شماریار خطرہ پیدا ہو گیا۔ران پر خطر حلات میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۶ احسان جون کے خطبہ جمعہ میں عالم اسلام کی نازک صورت حال کا دردناک نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا کہ :- اب جنگ ایسے خطر ناک مرحلہ پر پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات اس کی زد میں آگئے ہیں۔مصری لوگوں کے مذہب سے ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو وہ اسلام کی بجو توجیہ و تفسیر کرتے ہیں ہم اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں مگر اسی انکار نہیں کر سکتے کہ ظاہر ا طور پر وہ ہمارے خدا ہمارے رسول اور ہماری کتاب کو ماننے والے ہیں۔انکی اکثریت اسلام کے خدا کے لئے غیرت رکھتی ہے ، ان کی اکثریت اسلام کی کتاب کیلئے غیرت رکھتی ہے اور ان کی اکثریت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے لئے غیرت رکھتی ہے۔اسلامی لٹریچر۔شائع کرنے اور اُسے محفوظ رکھنے میں یہ قوم صف اول میں رہی ہے۔آج ہم اپنے مدارس میں احسان هلا ۳ صفحه ۳-۵-۱۶ جون ۱۱۹۴۲