تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 333
۳۲۳ احکام کی بنک کرتے ہوں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب بھی دنیا داری کے لحاظ سے جس کی ذرا تنخواہ زیادہ ہوئی یا چلتا پرزہ ہوگا یا دنیوی لحاظ سے اسے کوئی اور اعزاز حاصل ہوا۔جماعت کا عہدیدار بنا دیا جاتا ہے خواہ وہ داڑھی منڈوانا ہی ہو۔حالانکہ دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کے بڑے سے بڑے آدمی بھی ان لوگوں کے پاسنگ بھی نہیں جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں۔اور اگر دنیوی لحاظ سے ایسے لوگوں کو عہد یدار بنایا جاسکتا ہے قوعیسائیوں اور ہندوؤں کو کیوں نہیں بنایا جاسکتا۔وہ بہت زیادہ دولتمند اور دنیومی لحاظ سے بہت زیادہ معزز ہوتے ہیں۔مگر در حقیقت یہ کام وہی کر سکتا ہے جسے اسلام اور احمدیت کے جیتنے کی امید نہیں اور جو اسلام اور احمدیت کو ایک شکست خوردہ مذہب سمجھتا ہے۔ورنہ شخص اسلام اور حمدیت کو جیتنے والا مذہب سمجھتا ہے اس کے سامنے تو اگر کروڑ پتی بھی آجائیں تو وہ اُن کو حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے اور دنیا کے تمام بادشاہوں کو بھی ایک پیچھے مومن کے مقابلہ میں ذلیل سمجھتا ہے۔دنیا آخر ہے کیا چیز! کیا یہ خدا کے فیون کے مقابلہ میں کھڑی ہوئی اور کامیاب ہوئی ؟ آخر ہزاروں بنی دنیا میں آئے ہیں۔ان ہزاروں نہیوں میں سے کب کوئی ایسا نبی آیا کہ اُسے دنیوی لحاظ سے کوئی عزت حاصل تھی لیکن کب اس کا سلسلہ ختم ہوا اور وہ فاتح اور حکمران نہیں تھا۔یہی حال احمدیت کا ہے۔پس یہی شکست خورد ذہنیت کے لوگ جنہوں نے مغربیت کے آگے اپنے ہتھیار ڈال رکھتے ہیں وہ ہرگزہ کسی عہدہ کے قابل نہیں ہیں۔وہ بھگوڑے ہیں اور بھگوڑوں کو حکومت دے دینا اول درجہ کی حماقت اور نادانی ہے۔۔۔۔۔۔۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں سوال چند بالوں کا نہیں بلکہ یہاں سوال اس ذہنیت کا ہے جو مغربیت کے مقابلہ میں اسلام اور احمدیت نے پیدا کرتی ہے اور میں ذہنیت کو ترک کر کے انسان مغربیت کا غلام بن جاتا ہے۔تمہارا ایمان تو ایسا ہونا چاہیئے کہ اگر دس کروڑ بادشاہ بھی آکر کہیں کہ ہم تمہارے لئے اپنی بادت نہیں چھوڑنے کے لئے تیار ہیں تم ہماری طرف ایک بات مان لو جو اسلام کے خلاف ہے تو تم ان دس کروڈ باد شمارموں سے گہر: کہ تف ہے تمہاری اس حرکت پر میں تو محمد مصطفے صلی اللہ علی ام کی ایک بات کے مقابا میں تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی بادشاہتوں کو جوتی بھی نہیں مارتا