تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 328
۳۱۸ گوید جماعت چھوٹی ہے اور اس لحاظ سے اس نے حصہ بھی تھوڑا ہی نیا ہے اور خطبہ شائع ہونے سے بھی پہلے نیا ہے اور اجتماعی رنگ میں لیا ہے اور اس وجہ سے وہ بیرونی جماعتوں میں اول نمبر نے گئی ہے سوائے ان جماعتوں کے بین تک ابھی یہ اطلاع نہیں پہنچی اور نہ پہنچ سکتی تھی بنے یہ تو صرف اولیت کا شرف پانے والے افراد کا تذکرہ کیا گیا ہے ورنہ قادیان اور قادیان سے باہر دوسری مخلص احمدی جماعتوں نے اس تحریک پر میں والہانہ انداز میں لبیک کہا۔اس کا نظارہ ہمیں سلسلہ مامورین کے سوا کہیں نظر نہیں آتا۔اُن سے مطالبہ صرف پانچسومن غلہ کا کیا گیا تھا مگر انہوں نے پندرہ سومن جمع کر دیا بیٹے جس پر حضرت امیر المومنین نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا :- میں نے تحریک کی تھی کہ غرباء کے لئے بھی دوست بطور امداد غلہ جمع کریں۔چنانچہ اللہ تانے کے فضل سے قادیان کے غرباء کو پندرہ مومن گندم جو ان کی پانچ ماہ کی خوراک ہے تقسیم کی گئی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اسے آخری پانچ ماہ کے لئے محفوظ رکھیں۔اور خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ قحط بھی عین اسی وقت شروع ہوا۔میں نے کہا تھا کہ جن لوگوں کو یہ گندم مہیا کی گئی ہے وہ اسے دسمبر میں کھانا شروع کریں۔اور قحط بھی دسمبر میں ہی شروع ہوا ہے۔یہ بھی نظام کی ایک ایسی خوبی ظاہر ہوتی ہے کہ ساری دنیا میں اس کی مثال نہیں جا سکتی۔کہ ہر غریب کے گھر میں پانچ ماہ کا فقہ جمع کر دیا گیا یا اسے قادیان کی دو شر احمدی آبادی کیلئے غلہ کا انتظام یہ تو غرباء کی بات ہے جہاں تک قادیان کی دوسری ش احمدی آبادی کا تعلق تھا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رض اور مخلصین کا شاندار نموند کے ارشاد پر صدر انجمن احمدیہ کے کارکنوں کو غلہ کے لئے پیشگی رقم دے دی گئی تھی اور جو احمدی از خود غلہ خرید سکتے تھے انہوں نے ذاتی کوشش سے فرید لیا مگر بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے استطاعت کے باوجود بر دقت غلہ کا انتظام نہ کیا اور غفلت کا ثبوت دیا۔ایسے لوگوں کے لئے بھی حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی ہدایت اور بیرونی جماعتوں کے تعاون سے گندم کا انتہائی تسلی بخش انتظام کر دیا گیا جس کی تفصیل خود حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی زبان مبارک سے بیان کی جاتی ہے۔حضور فرا تے ہیں :- ا الفضل در احسان مقوم كالا به ام الفضل ۲ بر ۱۹۳۲ به الفضل ۲۸ بلیغ ه مفرده فروری ۶۱۹۴۵