تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 329 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 329

۳۱۹ باہر کے بعض لوگوں نے اس موقعہ پر قادیان والوں کی مدد کی ہے اور انہوں نے میری ہدایت پر نہایت اخف باص سے عمل کیا ہے۔چنانچہ میں اُس کی ایک امثال پیش کرتا ہوں جس کی کوئی دور نظیر مجھے ساری جماعت میں نہیں ملی۔اور وہ چودہری عبداللہ خان صاحب دانته زیاد کا والوں کی مثال ہے۔انہوں نے گذشتہ سال شروع میں ہی اپنی ضرورت سے زائد گندم محفوظ کوئی تاکہ اگر قادیان دالوں کو دوران سال میں ضرورت پیش آجائے تو وہ دے سکیں۔چنانچہ اس کے بعد جب گندم کی قیمتیں بہت زیادہ چڑھ رہی تھیں انہوں نے گورنمنٹ کے مقرر کردہ ریٹ پر اڑھائی سو من غلہ ہیں مہیا کر دیا۔حالانکہ اگر وہ چاہتے تو اس سے پہلے چھے بلکہ سات روپے پر منڈی میں اسے فروخت کر سکتے تھے۔مگر انہوں نے غلے کو روکے رکھا اور جلسہ سالانہ پر مجھ سے کہا کہ ہم نے آج تک اپنے خالہ کو اس لئے روک رکھا ہے کہ اگر قادیان و الوں کو نروند ہو تو ہم انہیں دے دیں۔تم خود سوچ لو کہ ایک زمیندار کی یہ کس قدر قربانی ہے کہ وہ اپنے غلہ کو اچھے داموں پر فروخت نہیں کرتا محض اس لئے کہ اگر قادیان دالوں کو ضرورت پیش آگئی تو ان کا کیا انتظام ہوگا۔غرض یہ ایک ایسے اخلاص کی مثال ہے جس کے مقابلہ میں اس معاملہ میں مجھے کوئی دوسری مثال اپنی جماعت میں سے نہیں ملی گو ایسی جماعت میں جو خدا تعالی کی جماعت ہو اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ہونی چاہئیں۔بعض جماعتوں نے بے شک ایسا نمونہ دکھایا۔چنانچہ قادیان میں جب غلہ کی سخت تلت ہو گئی تو سرگودھا کی جماع نے تمام جماعتوں سے بڑھ کر غلہ مہیا کر کے دیا۔مگر یہ ایک جماعت کی مثال ہے اور چودھری عبداللہ خان صاحب کی مثال ایک فرد کی ہے۔سرگودھا کی جماعت نے اس موقعہ پر ہمیں ۸۲۲ من غلہ مہیا کر کے دیا۔اسی طرح شیخو پورہ کے مضلع والوں نے قریبا ، من غلہ دیا۔بعض اور دوستوں نے بھی اپنے طور پر بعض واقف غیر احمدیوں سے غلہ لے کر بھیجوایا۔ضلع منٹگمری کی طرف سے ہم من ہ پہنچا۔اور اسی طرح ان سب جماعتوں نے اپنے اپنے درجہ کے مطابق اخلاص اور محبت کے ثبوت دیا۔بہرحال ان نوں میں اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے ایمان والوں کو وہ ہوتیں میسر آسکتی ہیں دو با پر کی جانوں یا ی قربانی کی بہ بیت گئیں۔بیرونی شہروںمیں ان دنوں غلہ کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔نانچہ جو اخبارات پڑتے ہیں وہ یہ ہیں کہ لوگوں کوآٹے کی کسی تکلیف اٹھانی پڑی القلب اخبار میں بھی کئی دفعہ یہ با