تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 322 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 322

٣١٢ احوال کا خیال رکھتے ہوئے فتوی دیتے۔نیز یہ خیال کرتے کہ اس سوال کا مقصد کیا تھا۔کیونکہ بعض اوقات مفتی کے سامنے ایسا واقعہ پیش کرنے سے یہ غرض ہوتی ہے کہ اُسے فتنہ برپا کرنے میں بطور جواب استعمال کیا جائے۔اس لئے مفتی کو چاہیے کہ وہ پیارا ر اور روشن بصیر ت ا والا ہو اور سوال کے مطابق جواب دے جیسے علماء سابقین کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔یہ فتوئے ہمارے ایک ہندوستانی بعدی بھائی بابو عبد الکریم صاحب یوسف زئی نے دریافت کیا تھا اُن کے متعلق شیخ الغماری نے تحریر کیا :۔ر ایک سنار دوستانی فوجی جو کہ چوبیس گھنٹے موت کے منہ کے سامنے کھڑا ہے اور وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ محتاج ہے کہ وہ احکام تو بہ پر عمل کرے اور مظالم سے خلاصی کا طریقہ معلوم کرے اور حقوق اللہ و العباد کا علم حاصل کیے۔کیونکہ ان حالات ہیں اسے ان باتوں کی معرفت زیادہ ضروری ہے لیکن اُسے کیا سوجھتا ہے ؟ یہ کہ حضر عینی زندہ ہیں یا وفات پاچکے ہیں ، وہ آسمان سے نزول فرمائیں گے یا نہیں ؟ اُسے یہ کیا خیال آیا اوران سوالات سے اُسے کیا تعلق ؟ کیا اس نے تمام عقائا ر سے واقفیت حاصل کر نی ہے۔اور اُس کے لئے سوائے اس عقیدہ کی تحقیق کے کوئی چیز باقی نہیں رہی ؟ کیا اپنے ہر واجب علم حاصل کر لیا ہے؟ کیا احکام الصلوۃ والصوم کو اس نے معلوم کر لیا ؟ اور سمجھ لیا ہے ؟ اگر فاضل استاذ جاری نہ کرتے اور ان سوالوں پر غور کرتے تو وہ حقیقتی راز معلوم کرلیتے جس کی وجہ سے یہ امر دریافت کیا گیا تھا اور پھر اس کو درست جواب دیتے لیکن به علام شلتوت نے ان امور پر غور نہ کیا اور بہادری سے جواب دیکر ایک بہت بڑی مصیبت خریدتی ہے۔علامہ محو حلقوت کی طرف سے الفرض الشيخ عبد الله حمدالصديق الخمار اور دوسرے مصری علماء نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ علامہ | علماء کو مد تل اور مسکت جواب شکرت فتوی وفات مسیح را پس لے میں گرم نامہ موصوف نے قرآن و حدیث کو چھوڑ کر نام نہاد علماء کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے صاف انکار کر دیا ه الفضل در دفا ۱۳۲۵ هش رو جولائی ۹۳) صفورہم ہے