تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 321
۳۱۱ تائید کرتے جنہوں نے اپنی زندگی ان قادیانیوں کے دفاع کی خاطر وقف کر رکھی ہے۔اسے مفتی ! تجھے تیرے رب کی ہی قسم ہے دیکھے کہ ہمارے ان ہندی بستانی علماء بھائیوں کی کیا حالت ہوگی جنہوں نے کہ نزول عیسی علیہ السلام کو ۷۰ احادیث سے اور حیات عیسی و رفع میٹی کو ثابت کردیا۔۔۔۔۔۔۔جب ان کو قادیانی جماعت کے ذریعہ سے یہ اطلاع ہوگی کہ از ہر اُن کی مخالفت کرتا ہے اور اس کی رائے ہے کہ ان مسائل میں نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ شہر دلیل۔خدا کی قسم میں تجھ سے پھر پوچھتا ہوں کہ وہ کیا کہیں گے ؟ اور ان کی کیا اہمیت ہوگی ، مجھے یقین ہے کہ علماء ہند دو احتمالوں میں مبتلا ہو جائیں گے اور وہ دونوں ہی عمار کا باعث ہیں۔یا تو وہ یہ کہیں گے کہ از ہر علماء سے خالی ہو چکا ہے۔یا وہ کتب ستہ یعنی صحاح ستہ اور کتب تفاسیر اور اُن کی احادیث کی کتب سے جو کہ اہل علم کے در میان متداول ہیں اُن سے ناواقف ہیں۔یا وہ اس امر کا اظہار کریں گے کہ علماء از مہر میں دینی جرات نہیں ہے جو کہ خصوصاً ایک مومن کے شامل حال ہونی چاہیے۔چاہے وہ پہلی رائے کا اظہار کریں یا دوسری کا جامعہ ازہر کا رتبہ ان کی آنکھوں سے گر جائے گا۔اور قلوب سے تعظیم جاتی رہے گا اور علمائے ازہر کے متعلق وہ شاعر کا یہ قول پڑھیں گے وَإِخْوَانًا حَسِبْتُمُوا در دعا فَكَانُوهَا، وَلكِنْ لا عَادِي اور کئی بھائی ہیں جن کو میں نے اپنے لئے زرد یعنی بچاؤ کا نے بعد خیال کیا تھا۔بے شک وہ آفات و مصائب سے بچانے کے لئے زرمیں تھیں لیکن حقیقت میں دشمنوں نے اُن سے فائدہ اٹھایا نہ لے شیخ نے علامہ شلتوت کو وفات مسیح علیہ السلام کا صاف صاف اقرار کرنے کی پاداش میں برا بھلا کہنے کے علاوہ ان کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا :۔دا) استاذ شلتوت نے اپنی رائے کے اظہار میں غلطی کی ہے میفتی کو چاہیئے کہ وہ قواعد افتاء اور اصول سے کما حقہ واقف ہو۔انہیں چاہیئے تھا کہ وہ از روئے علم غور سے دیکھتے اس معاملہ میں جو ان کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا اور وہ مستفتی (فتوی دریافت کرنیوالے) کے ه بجواله افضل رونار ه۱۳۵۲۵) در جولائی ۴۸۱۹۲۶ صفحرم ۵۰۴