تاریخ احمدیت (جلد 8)

by Other Authors

Page 320 of 681

تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 320

ایک عالم نے یہ فتوی دیا ہے۔اور لوگ آجکل ظاہری حالات کی طرف دیکھتے ہیں۔اور وہ جزو کو گل پر محمول کرتے ہیں چاہے وہ صحیح اس کے خلاف ہی ہو۔قادیانی جماعت نے اس فتوی کو اپنے لئے بطور ایک دلیل اور ہتھیار اختیار کر لیا ہے اور اس فتوی کو لے کر وہ مسلمانوں کے پاس جاکر ان کو بیوقوف بناتے اور اُن کے خیال کو خطا پر محمول کرتے ہیں اور وہ خوش اور ضرور ہیں اور وہ کامیاب اور فتحمنار لہجہ میں کہتے ہیں حاهو دا لاره موافقنَا وَيُخَالِعُكُمْ فَلَيْسَ عِيسَى بِحَي وَلا هُوَ مَرْفُوعَ وَلَا هُوَ نَازِكَ كَمَا تَزْعَمُونَ فَايْنَ تَذْهَبُوت - یہ وہ جامعہ ازہر کا فتوی ہے جو ہماری تائید میں ہے اور تمہارے مخالف پس عیسی علیہ السلام نہ تو زندہ ہیں اور نہ ہی انکو آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی وہ تمہارے گمان اور خیال کے مطابق آسمان سے نزول فرمائیں گے تم کس خیال میں گھوم رہے ہو ہم نے اس فتوئی اور ان حالات کو کچشم دید دیکھا اور حضرت مفتی صاحب سے کہدیا جو کچھ اس متوالے کے متعلق سنا اور دیکھا اور اس کی وجہ سے جو کچھ ہوا اور جو آئندہ ہو گا اس کا بھی ذکر کیا گھر مفتی صاحب نے اس کا یہ جواب دیا انا ابدیت ترائى وَلَا يَضُرُّني أن أوافق الالية انفير هم یعنی میں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے قادیانی جماعت یا غیر کی تائید مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی۔اسی سلسلہ میں یہ بھی لکھا:۔بعض اوقات مصلحت عامہ اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ بعض آراد کو ظاہر نہ کیا جائے اور ان کو نادیہ خمول اور طارق نسیان میں رکھ دیا جائے۔حضرت مفتی صاحب عالیم مریخ میں زندگی بسر نہیں کرتے کہ اُن کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ ان کو زمانہ کے حالات کا علم نہیں۔سر زمین ہند میں ایک گروہ جو قادیانی فرقہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس کی بحث اور کلام کا نکتہ مرکزی موت علیستی اور علم رفع ہے۔اس جماعت نے اپنے مبلغین ترکی البانیہ شام - مصر، امریکہ اور انگلستان وغیرہ میں بھیجے ہوئے ہیں۔۔۔۔مفتی صاحب پر یہ واجب تھا کہ وہ اس گروہ کی مخالفت کر کے خدا کا قرب حاصل کرتے اور مسلمانوں کی تائید کرتے۔اگر وہ اس خیال سے بھی نہ کرتے تو کم از کم ان علماء کبار کی