تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 269
۲۶۰ وہ آسانی سے کسی دوسرے کے نام وہی اشتہارات بصورت پیکٹ بھیج کر اُسے گرفتار کر سکتی ہے۔گویا تمام معززین کی عزتیں اور جانیں خطرہ میں ہیں اور اس محض سی۔آئی۔ڈی کے چند انسروں کے ہاتھ میں رہ گیا ہے۔میں نے اس خط میں جو ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب کو بھجوایا ہے یہی لکھا ہے۔ناور اُن سے پوچھا ہے کہ کیا قانون کا یہی غشاء ہے۔میں کسی بڑے افسر کا نام ادب کی وجہ سے نہیں لیتا لیکن کیا اُن کو اس قسم کا پیکٹ اگر کوئی بھیج دے تو پولیس تین چار منٹ کے بعد ہی اُن کو گرفتار کرلے گی حالانکہ تین چار منٹ میں کوئی انسان خواہ کتنا ہی سمجھے دار ہو کتنا ہی اقور ہو کتنے ہی وسیع ذرائع رکھنے والا ہو یہ نہیں کر سکتا کہ اس پیکٹ کو ڈپٹی کمشنر یا پی ٹنڈن ٹے پولیس کے پاس بھیجوائے۔آخر وہ کونسا ذریعہ ہے جس کے ماتحت اس قسم کا پیکٹ پہنچنے کے یقین چار منٹ بعد ہی انسان اُسے کسی ذمہ دار انستر تک پہنچا سکے۔اور اس طرح اپنی تربیت ثابت کر سکے تنت یں سمجھتا ہوں انگریز ایک جیل اور کیل بھی یہ طاقت نہیں رکھتے کہ وہ باوجود ٹرین میں رکھنے کے باد جو ہوائی جہانے رکھنے کے اس قسم کا پیکٹ پہنچنے کے بعد تین چار منٹ کے اندر اندر اس کے متعلق کوئی کاروائی کر سکیں۔پس اگر اس قانون کا یہی مفہوم ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہندوستان کے ہر شخص کی عزت خطرے میں ہے۔فرض کریہ میں اسوقت، وہاں موجود نہ ہوتا تو کیا اس قانون کے ماتحت خلیل احمد مجرم نہیں تھا۔یا فرض کرو وہ اس کی اہمیت کو نہ سمجھتا اور اس پیکٹ کو کمرہ میں پھینک دیتا تو کیا وہ مجرم نہ بن جاتا۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس قانون کا یہ منشاء ہو جو پولیس نے سمجھا۔لیکن چونکہ میں نے اس کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلائی ہے اس لئے میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ اس کا کیا جواب دیتی ہے۔اگر گورنٹ کا یہی منشار ہے تو بغیر مزید تحقیق کئے ابھی سے یہ کہے دیتا ہوں کہ اس کے ماتحت ہندوستان میں کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں۔اور اگر اس قانون کا یہ مشاء نہیں اور اگر گورنمنٹ نے ایسے اصول تجویز کئے ہیں جن سے اس قسم کے خطرات کا ازالہ ہو سکتا ہے تو یقیناً گورنمنٹ کا فرض ہے کہ ان لوگوں کو جو اس واقعہ کے ذمہ دار اور اصل مجرم میں سزا دے اپنے اس واقعہ کا منظر عام پر آنا ہی تھا کہ مخلصین جماعت کے باوں میں مخلصین جماعت کا رد عمل زیر دست ہیجان اور جوش پیارا ہوگیا۔اور انہوں نے حضر امیر المومنین کے حضور اپنے نام پیش کرنے شروع کر دیے کہ اس موقعہ پر ہم سے انفرادی طور پر تین میں قربانی کا مطالبہ الفضل مما ۱۳۵۲ ت بوک (۴ در ستمبر ۱۹۳۷) صفحه ۲ تا ۷ هم