تاریخ احمدیت (جلد 8) — Page 270
کیا جائے گا اس سے دریغ نہیں کرینگے۔تاہم جذبات کے حددرجہ مجروح ہونے کے باوجود انہوں نے ہر نوع کے غیر آئینی اقدام سے کلیشہ اجتنا آیا اور صبر و تحمل کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔دوسروں کا رد عمل جماعت احمدیہ کی مظلومی کا یہ نظارہ دیکھ کر ملک کے سیدہ نو متر سیم غیر مسلم حلقوں نے بھی پولیس کی ظالمانہ کاروائی کو سخت نفرت و حقارت سے رو و دیکھا اور جماعت سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اخبارات کا زبردست احتجاج سب سے عمدہ نمونہ ہندوستان کے پریس نے دکھایا جس نے احتجاجی نوٹ لکھے۔اس واقعہ کی تفصیلات شائع کرنے کے علاوہ اس پر نوید آ اخبار انقلاب لاھور : شمالی ہند کے مشہور عمان اخبار انقلاب در مور نے اپنی تعمیر کارو کی اشاعت میں لکھا :۔قادیانیوں کے متعلق کسی سرکاری یا غیر مہ کاری آدمی کو یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ حکومت کے خلات با فیات ٹریچر کی اشاعت میں شریک ہو سکتے ہیں۔حکومت کے ساتھ تعاون اور مساعی جنگ کی پرزور حمایت کے باب میں ان کی پالیسی ساری دنیا پر آشکارا ہے، پھر اگر اس گروہ کے امام کا سا جزادہ بھی ایک ایسے مقالے -- میں حمل مشبہات بن سکتا ہے جس سے نظر یہ ظاہر اس کا کوئی تعلق نہ تھا تو ان لوگوں کی آزادیاں اور عزتیں کیونکر محفوظ سمجھی جاسکتی ہیں جن کے متعلق حکومت یا عوام کو وفاداری کا دیسا یقین نہیں ہو سکتا جیسا کہ قادیانی اصحاب کے متعلق ہے۔ہم مرزا صاحب کی اس رائے سے متفق ہیں کہ قانون کا ایسا استعمال نے ان پڑھ یا قریباً ان پڑھ پولیس کے معمولی جوانوں کو مختار بنا دینا یقینا ہے حد خطر ناک ہے اور جین حوادث سے مرزا صاحب کو سابقہ: پڑا کسی شریعت انسان کے لئے بھی اطمینان بخش نہیں ہو سکتے۔حکومت کا فرض ہے کہ اس قسم کے واقعات کا سختی سے انسلاد کرنے حکومت کے کار بار اس وتخفق پورے ملک میں غائی غیر مبائین کی ہی واحد پارٹی تھی جس کے ساتھ تعلق رکھنے والے بعض لوگوں نے کھلم کھلا سرامر فیق اله مومنان وتار در شرافت انسانیت گرا مواردی اختیاری حتی روی ما وجود ایرانی نے پریس کی کاروائی پر زاهد کہ میں خوشیاں منائیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ذات اقدس کیلئے نہایت درجہ نازیبا الفاظ استعمال کئے دو نفضل است SIMI ܀